ہفتہ‬‮ ، 29 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

یورپ جوہری سمجھوتے کو بچانے کی قیمت بھی چکائے،ایرانی وزیر خارجہ

datetime 20  اگست‬‮  2018 |

تہران(نٹرنیشنل ڈیسک)ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ یورپ نے ابھی تک امریکا کی مخالفت میں جوہری سمجھوتے کو بچانے کے لیے کوئی قیمت چکانے کا ارادہ ظاہر نہیں کیا ہے اور وہ صرف خالی خولی بیانات ہی جاری کررہا ہے۔انھوں نے اتوار کو ایران کے نوجوان صحافیوں کی ویب سائٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی حکومتوں نے آیندہ نومبر میں امریکا کی

پابندیوں کے نفاذ کے بعد ایران کے ساتھ تیل کی تجارت اور بنک کاری کے شعبوں میں تعاون برقرار رکھنے کے لیے تجاویز پیش کی ہیں لیکن ان کے تجویز کردہ اقدامات ابھی تک ان کے بیانات تک ہی محدود ہیں اور انھوں نے کوئی عملی اقدام نہیں کیا ہے۔جواد ظریف نے کہاکہ وہ اگرچہ آگے بڑھے ہیں لیکن ہمیں یقین ہے کہ یورپ ابھی تک امریکا کی حقیقی معنوں میں مخالفت کرتے ہوئے قیمت چکانے کو تیار نہیں ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 مئی کو ایران اور چھے عالمی طاقتوں کے درمیان طے شدہ جوہری سمجھوتے سے دستبرداری کا اعلان کردیا تھا اور اس کے بعد ایران کے خلاف ہٹائی گئی پابندیاں دوبارہ نافذ کردی ہیں۔ ان میں سے بعض قدغنوں کا اطلاق 6 اگست سے ہوا ہے اور بعض کا نومبر سے ہوگا۔سمجھوتے میں شریک تین یورپی ممالک برطانیہ، جرمنی اور فرانس اس عزم کا اظہار کرچکے ہیں کہ وہ ایران کو اقتصادی فوائد مہیا کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے لیکن یورپ کی بڑی کمپنیاں امریکی پابندیوں کے خوف سے ایران سے کاروبار سمیٹ کر واپس جا چکی ہیں یا جارہی ہیں ۔جواد ظریف کا کہنا تھا کہ ایران یورپ کے سیاسی عزم کا جواب دے سکتا ہے لیکن اس کے ساتھ کوئی عملی اقدام بھی تو ہونا چاہیے۔یورپی یہ تو کہتے ہیں کہ جوہری سمجھوتا ان کی سکیورٹی کے شعبے میں ایک کامیابی ہے ۔اب ہر ملک کو اس سکیورٹی کی قیمت ادا کرنی چاہیے اور سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ہم انھیں آنے والے مہینوں میں یہ قیمت ادا کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)


عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…

عدیل اکبرکو کیاکرناچاہیے تھا؟

میرا موبائل اکثر ہینگ ہو جاتا ہے‘ یہ چلتے چلتے…