ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

(ن)لیگ ،پیپلزپارٹی نے قومی اسمبلی میں کیلئے مشترکہ حکمت عملی طے کر لی ،دیگر اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لیاجائیگا،بڑے فیصلے

datetime 11  اگست‬‮  2018 |

لاہور( این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی میں بھرپور کردار ادا کرنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی طے کر لی ہے جس پر دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا،خصوصی طور پر پہلے سیشن میں حاضری یقینی بنانے کیلئے اپوزیشن اراکین کے مختلف گروپس بنائے جائیں گے۔ پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سید یوسف رضا گیلانی اور سید خورشید شاہ نے مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد شہباز شریف سے ان کی رہائشگاہ 96ایچ ماڈل ٹاؤن میں اہم ملاقات کی ۔

اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق ، خواجہ سعد رفیق اور رانا تنویر حسین بھی موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور وفاق او رپنجاب میں حکومت سازی کے مراحل کے حوالے سے جاری امور بارے تفصیلی تبادلہ خیال کیا ۔ رہنماؤں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ حالیہ انتخابات میں تاریخ کی بد ترین دھاندلی ہوئی ہے اور اس کے خلاف پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بھرپور آوازبلند کی جائے گی ۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں قومی اسمبلی میں بھرپور کردار ادا کرنے اور خصوصاً آئندہ کے اجلاس کے حوالے سے مشترکہ حکمت عملی طے کی گئی جس پر دیگر جماعتوں کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔ اس موقع پر طے پایا کہ اجلاس میں اپوزیشن اراکین کی حاضری کو یقینی بنایا جائے گا اور اس کیلئے مختلف گروپس بنانے پر گفتگو ہوئی جبکہ اس موقع پر مستقبل میں بھی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں وزیرا عظم ، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کر مراحل بارے بھی گفتگو اور متحدہ اپوزیشن کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ پنجاب کے حوالے سے بھی معاملات زیر بحث آئے۔ مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما رانا تنویر حسین نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کے درمیان کسی قسم کے اختلافات یا ایک دوسرے سے تحفظات نہیں ،اپوزیشن متحد ہے اور تمام جماعتیں ساتھ مل کر چلیں گی۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر لائن آف ایکشن طے کی ہیں اورمعاملات کو آگے چلانے کے حوالے سے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مختلف گروپس تشکیل دئیے گئے ہیں تاکہ اراکین اسمبلی کی حاضری پوری رکھی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے تحفظات پر کوئی بات نہیں ہوئی ۔ انہوں نے پنجاب میں حکومت سازی کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ اس حوالے سے تمام کوششیں کر لی ہیں، سیشن ہونے پر تمام کوششیں کھل کر سامنے آ جائیں گی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…