منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

مسئلہ فلسطین کا مستقل حل،اسرائیل کیلئے امریکی متنازع امن منصوبے’’صدی کی ڈیل‘‘کو مصر، اردن، سعودی عرب، امارات کی حمایت حاصل ہوگئی،حیرت انگیز تفصیلات منظر عام پر

datetime 26  جون‬‮  2018 |

مقبوضہ بیت المقدس (این این آئی)اسرائیلی اخبارات نے دعویٰ کیا ہے کہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امریکہ کے نئے اور متنازع امن منصوبے’صدی کی ڈیل‘ کو کئی عرب ممالک کی طرف سے مکمل حاصل ہوگئی ہے اور امریکہ ان عرب ممالک کے ساتھ مل کر فلسطینی اتھارٹی کو نظرانداز کرتے ہوئے نافذ کرنے کی کوشش کرے گا۔انگریزی اور عبرانی زبان میں شائع ہونیوالے اسرائیلی اخبار ’اسرائیل ٹوڈے‘ کی رپورٹ کے مطابق اردن، مصر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی قیادت نے

’صدی کی ڈیل‘ کے عنوان سے میڈیا میں مشہور امریکی امن منصوبے کی مکمل تائید اور حمایت کی ہے۔اسرائیلی اخبار کے مطابق امریکی مندوبین جارڈ کوشنر اور جیسن گرین بیلٹ نے عرب ممالک کے دورے کے دوران ان کے سامنے’صدی کی ڈیل‘ نامی سکیم کی تفصیلات پیش کیں۔ ان ممالک کی مقتدر قیادت نے امریکی امن سکیم کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ چاہے فلسطینی صدر محمود اس اسکیم کو تسلیم نہ بھی کریں تب بھی وہ اس کی حمایت کریں گے اور اس کے نفاذ میں مدد فراہم کریں گے۔

اخبار نے ذمہ دار سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ محمود عباس کی مخالفت اور عدم قبولیت کے باوجود مصر، اردن، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو امریکی امن منصوبے پر کوئی اعتراض نہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جارڈ کوشنر نے مصری صدرالسیسی اور اردنی فرمانروا شاہ عبداللہ سے ملاقاتوں میں یقین دلایا ہے کہ امن منصوبے میں فلسطینیوں کے حقوق کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔

محمود عباس کی مخالفت کے باوجود علاقائی ممالک کی جانب سے منصوبے کی حمایت کی جا رہی ہے۔امریکی مندوبین نے حالیہ ایام میں عرب ممالک کے دورے کے دوران ان کا موقف سنا اور انہیں اپنے موقف سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر بڑے عرب ممالک کی جانب سے صدی کی ڈیل کے حوالے سے حیرت انگیز حمایت سامنے آئی۔اخبار کے مطابق صدی کی ڈیل کی حمایت کرنے والے عرب ممالک فلسطینی اتھارٹی اور صدر عباس پر بھی منصوبے کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…