منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

این اے 98، پی پی 91اورپی پی 90میں بڑا اپ سیٹ،تحریک انصاف کیلئے راستہ صاف ہوگیا

datetime 26  جون‬‮  2018 |

بھکر(مانیٹرنگ ڈیسک )حلقہ این اے 98، پی پی 91اورپی پی 90میں بڑا اپ سیٹ ہو گیا ،الیکشن ٹربیونل نے سماعت کے بعد دونوں مضبوط آزاد امیدواروں رشید اکبر نوانی او ر سعید اکبر نوانی کے کاغذات نامزدگی مسترد کرتے ہوئے الیکشن کیلئے نااہل قراردیدیا ،جس کے بعد دونوں حلقوں میں سیاسی صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی ۔

تفصیلات کے مطابق الیکشن 2013میں اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے دوران سعید اکبر خان نوانی اور رشید اکبر خان نوانی نے متعلقہ ریٹرننگ آفیسر کے پاس اپنی بی اے کی جعلی ڈگری جمع کرائی تھی اور بعد میں بیان حلفی جمع کرایا تھا کہ یہ ڈگریاں اصلی ہیں لیکن وہ جعلی ثابت ہوئیں تھیں جس پر متعلقہ ریٹرننگ آفیسر نے دونوں بھائیوں کو آرٹیکل62-63پر پورا نہ اترنے پر تاحیات نااہل قرار دیا تھا،لیکن بعدمیں دونوں بھائیوں نے پاکستان کی کسی عدالت میں ریٹرنگ آفیسر کے اس فیصلے کیخلاف اپیل دائر نہ کی تھی ،الیکشن2018میں دونوں بھائیوں نے دوبارہ اپنے کاغذات نامزدگی میں خود کو بے اے پاس ظاہر کرتے ہوئے بی اے کی ڈگریاں جمع کرائیں جس پر انکے مدمقابل امیدوار نے ان ڈگریوں کو جعلی قرار دیتے ہوئے اعتراضات جمع کرائے تھے لیکن آر ا ونے سماعت کے بعد اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے دونوں بھائیوں کو الیکشن2018میں حصہ لینے کی اجازت دی تھی،حلقہ این اے 98بھکر2 سے آزاد امیدوار رشید اکبر خان نوانی اور حلقہ پی پی 90,91سے آزاد امیدوار سعید اکبر خان نوانی کے آر او سے کاغذات نامزدگی منظور ہونے کے بعد رفیق احمد خان نیازی نے الیکشن ٹربیونل لاہور میں اپیل دائر کی تھی۔

جس میں کہا گیا تھا کہ نوانی برادران کو جعلی ڈگری کیس میں سزا سنائی گئی تھی جس کی وجہ سے یہ آئین کی دفعہ62-63کی رو سے نااہل ہیں اور الیکشن نہیں لڑ سکتے جس پر عدالت نے سماعت کی اور دونوں جانب سے وکلا کے دلائل سنے اور اپنے فیصلہ میں جس پر الیکشن ٹریبونل نے الیکشن2013کے دوران ریٹرننگ آفیسر کے فیصلے کو بحال رکھتے ہوئے دونوں بھائیوں کو آرٹیکل62-63پر پورا نہ اترنے پر نااہلی کا فیصلہ سنایا ہے۔ نوانی برادران کے الیکشن میں نااہل ہونے کی وجہ سے حلقہ کی سیاست میں یکسر تبدیلی آگئی ہے اور اب پی ٹی آئی کے امیدوا ر ڈاکٹر افضل خان ڈھانڈلہ کو مضبوط امیدوار تصور کیاجا رہا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…