منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

پنجاب کے نگراں وزیر اعلیٰ کا معاملہ ،وہی ہوا جس کا خدشہ تھا، معاملہ سیاستدانوں کے ہاتھوں سے نکل کر کہاں چلا گیا؟

datetime 6  جون‬‮  2018 |

لاہور(این این آئی) پنجاب میں نگران وزیر اعلیٰ کے معاملے پر حکومتی اور اپوزیشن کی پارلیمانی کمیٹی میں اتفاق نہ ہوسکا جس کے بعد معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس چلا گیا۔پنجاب میں نگران وزیراعلی کے لیے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس اسپیکر رانا محمد اقبال کی صدارت میں پنجاب اسمبلی کے کمیٹی روم اے میں ہوا جس میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے رانا ثنااللہ، خواجہ عمران نذیر اور ملک محمد احمد خان شریک ہوئے

جبکہ تحریک انصاف کی طرف سے میاں محمود الریشد، سبطین خان اور شعیب صدیقی نے نمائندگی کی ۔اجلاس میں مسلم لیگ (ن) نے کی طرف سے ایڈمرل (ر)ذکااللہ اورجسٹس (ر)سائر علی کا نام پیش کیا گیا جبکہ تحریک انصاف نے حسن عسکری اور ایاز امیر کے نام دیئے۔اجلاس میں دونوں جانب سے پیش کردہ ناموں پر غور کیا گیا تاہم اتفاق نہ ہونے کے سبب اجلاس بے نتیجہ ہی ختم ہوگیا۔اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے ملک محمد احمد خان نے کہا کہ یہ ضروری تھاکہ نگران وزیر اعلیٰ کے دئیے جانے والے نام غیر جانبدار ہوں جبکہ اپوزیشن کی جانب سے جو نام پیش کئے گئے تھے سب جانتے ہیں کہ وہ مسلم لیگ (ن) لیگ کیلئے تعصب رکھتے ہیں اور ان کی جانب سے انتخابات میں لیول پلینگ فیلڈ نہیں ملنا تھا جبکہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے جو نام دئیے گئے تھے وہ غیر جانبدار تھے ۔اجلاس میں اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے بعد یہ معاملہ الیکشن کمیشن کو بھجوا دیا گیا ہے۔میاں محمود الرشید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ (ن) لیگ اور اپوزیشن کے مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں، ہم نے ایک ایک نام ڈراپ کرنے کا کہا تھا لیکن (ن)لیگ ذکااللہ کے نام پر بضد تھی جس پر ہم نے کہا کہ یہاں کوئی کشتی رانی کا مقابلہ یا سمندر میں مشقیں نہیں کرانی ان کے پاس انتظامی طور پر

کوئی تجربہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حسن عسکری ایک دانشور اور غیر جانبدار شخصیت ہیں، وہ (ن)لیگ ہی نہیں بلکہ پی ٹی آئی کی پالیسیوں پر بھی تنقید کرتے ہیں۔ محمود الرشید کا کہنا تھاکہ حکومت کے غیر لچکدار رویے کی وجہ سے مذاکرات ناکام ہوئے، اب یہ معاملہ الیکشن کمیشن میں چلا گیا ہے، اسپیکر سمری بناکر الیکشن کمیشن کو بھیجیں گے جس پر دو روز میں فیصلہ ہوجائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…