ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

ہر سال 15 رمضان المبارک کو یہ دن منایاجائیگا،قومی اسمبلی نے قرارداد منظور کرلی

datetime 29  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی نے ہر سال 15 رمضان المبارک یوم یتامیٰ منانے کے مطالبے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی ہے۔ منگل کو قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن )کے رکن ملک ابرار احمد نے معمول کی کارروائی روک کر قرارداد پیش کئے جانے کی تحریک پیش کی جس کی منظوری کے بعد انہوں نے ایوان میں قرارداد پیش کی کہ یہ ایوان متفقہ طور پر حکومت پاکستان سے

یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ 15 رمضان المبارک کو یوم یتامیٰ کے طور پر منانے کا اعلان کرے۔ قرارداد میں بتایا گیا کہ دنیا بھر میں 42 لاکھ بچے یتیم ہیں اور یونیسف کے ایک سروے کے مطابق ہر 30 سیکنڈ بعد دو بچے یتیم ہو رہے ہیں ٗ دہشتگردی‘ قدرتی آفات‘ مہلک بیماریوں اور دیگر واقعات کی وجہ سے پاکستان میں یتیم بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ او آئی سی نے ہر سال 15 رمضان المبارک عالمی یوم یتامیٰ کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے‘ میڈیا ‘ سول سوسائٹی سمیت دیگر ادارے معاشرے میں یتیموں کے مقام کے بارے میں آگاہی مہم چلائیں۔ قرارداد میں کہا گیا کہ ان یتیم بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے مناسب اقدامات اٹھائے جائیں۔ وزارت تعلیم ملک بھر میں فن‘ شاعری اور تقریری مقابلوں کے ذریعے یتیم بچوں کی اہمیت اجاگر کرنے کے لئے اہتمام کرے۔ وزارت مذہبی امور علماء و مشائخ کے ساتھ مل کر اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرے۔ 15 رمضان کو سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر یہ دن منایا جائے۔ قرارداد ایوان میں پیش کی گئی جس کی متفقہ طور پر منظوری دے دی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…