ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو اور وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے افسران کے ساتھ سینئر ترین جج نے کیا سلوک کیا؟حیرت انگیز دعویٰ،کارروائی کیلئے خط لکھ دیاگیا

datetime 28  مئی‬‮  2018 |

کوئٹہ (این این آئی) وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے بلوچستان ہائی کورٹ کے جج جسٹس کامران ملاخیل کے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے افسران کے ساتھ تضحیک آمیز روئیے اور وزیراعلیٰ کے خلاف غیر مناسب الفاظ کہنے کے خلاف تحقیقات کے لئے چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ کو خط لکھ دیا، وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی جانب سے چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس محمد نور مسکانزئی کے نام لکھے گئے

خط میں کہا گیا ہے کہ 17مئی کو بلوچستا ن ہائی کورٹ کے جج جسٹس کامران ملاخیل نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے افسران پرنسپل سیکرٹری حافظ عبدالباسط،ایڈیشنل سیکرٹری لعل جان جعفر ،پرنسل سٹاف آفیسر بابر خان کو اپنے چیمبر میں طلب کیا جس پر تینوں افسران ہائی کورٹ پہنچے جہاں انہیں چیمبر کے باہر آدھے گھنٹے تک انتظار کروایا گیا اس ملاقات میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری کو بھی طلب کیا گیا تھا ،ملاقات کے دوران جسٹس کامران ملاخیل نے انکے علاقے میں سڑک چوڑی کر نے کی اسکیم کو پی ایس ڈی پی سے نکالنے کے معاملے پر بد سلوکی کی ،خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ تینوں افسران نے معاملے سے لا تعلقی کا اظہار کیا لیکن جسٹس کامران ملاخیل نے مسلسل غصے کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کے خلاف بھی غیر مناسب الفاظ کہے اور ان پر انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ تعلقات رکھنے کا الزام بھی لگا یا جبکہ معزز جج نے افسران کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں طویل عرصے سے تعینات رہنے پر سنگین تنائج کی دھمکیاں بھی دیں جس سے افسران حیران رہ گئے اور انکے الزامات کا کوئی جواب نہیں دیا ،متن میں وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں مذکورہ جج عدلیہ کے قابل احترام ممبر ہیں لیکن اس قسم کا روئیہ جو ڈیشل ڈسپلن کی خلاف ورزی ہے اور اس عمل سے انکاوزیراعلیٰ سیکرٹریٹ اور اسکے افسران کے خلاف ذاتی بغض ظاہر ہوتاہے لہذا اس معاملے کی گہرائی میں تحقیقات کی جائیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…