جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

چیف جسٹس کے نوٹس لینے کے بعد موبائل کمپنیاں عوام کو لوٹنے لگ گئیں ! کونسا لولی پاپ دیا جانے لگا ؟ٹیکس کاٹنے کیلئے نیا طریقہ ڈھونڈ لیا گیا ؟ عوام تیار رہیں کیونکہ ۔۔

datetime 4  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی رئوف کلاسرا نے انکشاف کیا ہے کہ موبائل کمپنیاں اس وقت عوام کیساتھ بڑا فراڈ کر رہی ہیں اور ان کی جیبوں پر ڈاکے ڈال رہیں ہیں ۔ موبائل کمپنیوں کیساتھ ایف بی آر والے میں ملے ہوئے ہیں۔ معروف اینکر پرسن و کالم نگار نے انکشاف کیا ہے کہ میں سینیٹ کی فنانس کمیٹی کے اجلاس میں موجود تھا، ایف بی آر نے کہا کہ ہمارے پاس تو سسٹم ہی

موجودنہیں ہے جس سے ہم یہ پتہ کر سکیں کہ کون کیا ٹیکس لے رہا ہے؟رؤوف کلاسرا نے کہا کہ ایک کمپنی کا تو میں خود شکار ہوں، میں یو فون کا ہزار روپے ماہانہ کا انٹرنیٹ پیکج لیتا ہوں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پہلے مجھے ماہانہ پیکج کے ختم ہونے پر کمپنی میسج کر دیتی تھی کہ آپ کا موجودہ پیکج ختم ہو گیا لیکن اب جب پتہ چلتا ہے تو دو ڈھائی ہزار اوپر خرچ ہو چکے ہوتے ہیں ۔ یہاں یہ بات بتانا چاہوں گا کہ یہ صرف یوفون ہی نہیں بلکہ دیگر دوسری کمپنیاں بھی اپنی اکائونٹس بھرنے کیلئے عوام کی جیبوں پر ڈاکے مارنے میں مصروف ہیں ۔ ہمیں کمپنیاں فور جی کا لولی پاپ دیتی ہیں جبکہ ہمارے پاس ون جی کی سپیڈ بھی نہیں آتی ۔ کمپنیاں بس ہمارے ساتھ فور جی فورجی کا تماشہ کھیل رہیں اور ہر طرف سے عوام کو لوٹنے میں مصروف ہیں ۔ یہ لوگ اتنے طاقتور ہیں کہ ٹی وی پر اپنے خلاف کوئی چیز نہیں چلنے دیتے ۔ کیونکہ میڈیا کے سب سے بڑے اشتہاری یہی لوگ ہیں ۔ واضح رہے کہ چیف جسٹس نے نوٹس لیتے ہوے کہا تھا کہ بتایا جائے کہ 100 روپے کے لوڈ پر 40 روپے ٹیکس کس مد میں کاٹا جارہا ہے،یہ ٹیکس کدھر جارہا ہے؟چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو تحقیقات کا حکم دیا تھا اور منگل کو اس کیس کی سماعت باقاعدہ طور پر ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…