پیر‬‮ ، 23 فروری‬‮ 2026 

خواجہ آصف جس اقامے پر تاحیات نا اہل ہوئے اس کے مطابق وہ یو اے ای کی کمپنی میں کونسی ملازمت کر رہے تھے اور سالانہ یہ کمپنی ان کو کتنے درہم تنخواہ دیتی رہی؟ جان کر آپ بھی اپنا سر پیٹ لینگے

datetime 26  اپریل‬‮  2018 |

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عثمان ڈار نے اقامہ کی بنیاد پر وزیر خارجہ خواجہ آصف کی نااہلی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔درخواست گزار کے مطابق خواجہ آصف بیرون ملک ملازمت کرتے رہے اور انہوں نے اقامہ رکھا۔دوسری جانب خواجہ آصف کے وکیل نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے دلائل دیئے تھے کہ ان کے موکل کی جانب سے

آمدن اور اثاثوں کی تفصیل نہیں چھپائی گئی۔انہوں نے انٹرنیشنل مکینکل اینڈ الیکٹریکل کمپنی کا ایک خط بھی پیش کیا جس کے مطابق خواجہ آصف کمپنی کے کل وقتی ملازم نہیں بلکہ لیگل ایڈوائزر ہیں اور کمپنی کا نمائندہ ان حقائق کی تصدیق کے لیے پاکستان جا کر عدالت میں پیش ہونے کو تیار ہے۔عدالت عالیہ نے تمام دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد 10 اپریل کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو آج سنایا گیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عثمان ڈار کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے وزیر خارجہ خواجہ آصف کو تاحیات نااہل قرار دے دیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل تین رکنی لارجر بینچ نے پی ٹی آئی رہنما کی درخواست پر سماعت کے بعد 10 اپریل کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔لارجر بینچ کے سربراہ جسٹس اطہر من اللہ نے آج خواجہ آصف کی نااہلی سے متعلق متفقہ فیصلہ پڑھ کر سنایا۔35 صفحات پر مشتمل فیصلے کے مطابق خواجہ آصف کو آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہل قرار دیا گیا ہے، جس کے بعد ان کی قومی اسمبلی کی رکنیت بھی ختم ہوگئی۔فیصلے کے مطابق خواجہ آصف کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی وزارت محنت کی طرف سے لیبر کیٹیگری کا شناختی کارڈ جاری ہوا اور ملازمت کی وجہ سے ہی انہیں اقامہ بھی جاری ہوا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق 2013 کے عام انتخابات میں کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت یہ ملازمت ہی خواجہ آصف کا بنیادی پیشہ تھا۔فیصلے کے مطابق کاغذات نامزدگی داخل کرتے وقت خواجہ آصف کا ملازمت کا معاہدہ موجود تھا، جس کی تصدیق یو اے ای کی حکومت نے بھی کی اور معاہدے کے تحت خواجہ آصف کمپنی معاملات کو خفیہ رکھنے کے پابند تھے۔تحریری فیصلے کے مطابق

خواجہ آصف کے معاہدے کے تحت 1 سال میں مسلسل 7 روز غیرحاضری پر خواجہ آصف کی ملازمت ختم ہوسکتی تھی جبکہ معاہدے کے تحت انہیں ہر ماہ تنخواہ ملتی رہی یہ تنخواہ سالانہ 50ہزار درہم بنتی ہے۔ اور خواجہ آصفنٹرنیشنل مکینکل اینڈ الیکٹریکل کمپنی میں قانونی مشیر کے طور پر فرائض سرانجام دئیے۔ نے اسے تسلیم بھی کیا۔عدالتی فیصلے کے مطابق ملازمت ظاہر کرنے سے خواجہ آصف کے لیے مفادات کے ٹکراؤ کا معاملہ اٹھایا جاسکتا تھا، یہی وجہ ہے

کہ کاغذات نامزدگی کے کالم 8 میں انہوں نے لفظ ‘کاروبار لکھا تھا۔فیصلے میں خواجہ آصف کی ملازمت سے متعلق 3 کنٹریکٹ بھی منسلک کیے گئے ہیں۔عدالت عالیہ نے فیصلے کی مصدقہ کاپی الیکشن کمیشن کو بھجوانے کا حکم بھی دیا، جس کے بعد خواجہ آصف کو قومی اسمبلی نشست سے ڈی سیٹ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔واضح رہے کہ خواجہ آصف 2013 کے عام انتخابات میں این اے 110 سیالکوٹ سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…