اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

بنگلہ دیش کے وجود کو قائم رکھنے کیلئے اب تک پاکستان سے محبت کرنے والے بنگلہ دیشیوں کو سزا ملنی چاہئے، پاکستان سے نفرت اور بعض رکھنے والی حسینہ واجد بہت آگے نکل گئیں، اپنے ہی شہریوں کیخلاف کیا شرمناک اعلان کر دیا

datetime 26  مارچ‬‮  2018 |

ڈھاکہ(آئی این پی ) بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے اب تک محبت کرنے والے بنگلہ دیشیوں کو سزا ملنی چاہیئے،ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جن سے بنگلہ دیشیوں میں پاکستان کی محبت ختم ہوجائے، عوام کوبھی ان لوگوں کے خلاف سخت جواب دینا چاہیے،1975 میں بنگلہ دیش کے حکمران پاکستان کوخوش کرنا چاہتے تھے۔

پیر کوبنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ نے دارالحکومت ڈھاکہ میں ایک تقریب سے خطاب میں کہا ہے کہ بنگلہ دیش کے وہ شہری جو ایک خود مختارملک میں رہتے ہوئے اب تک پاکستان سے محبت کرتے ہیں، انہیں سخت سزا ملنی چاہیئے، ہمیں ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جن کی مدد سے بنگلہ دیشی شہریوں میں پاکستان کی محبت ختم ہوجائے جب کہ عوام کوبھی ان لوگوں کے خلاف سخت جواب دینا چاہیے جو پاکستان سے محبت کرتے ہیں، اگرہم ایسا نہیں کرسکتے تو ہمارا وجود مٹ جائے گا۔بنگلہ دیشی وزیراعظم نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش اگر ناکامی کی جانب جائے گا تو اس سے پاکستان خوش ہوگا، بالکل ویسے ہی 1975 میں بنگلہ دیش کے حکمران پاکستان کوخوش کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس وقت کے بنگلہ دیشی حکمران نہیں چاہتے تھے کہ بنگلہ دیش ترقی کرے اوراسی لیے وہ پاکستانی فورسزکا ایجنڈا مسلط کر رہے تھے۔واضح رہے کہ یہ پہلی بار نہیں جب بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ نے پاکستان کے خلاف زہراگلا ہے اس سے قبل بھی وہ بارہا پاکستان کے خلاف بیانات چکی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…