جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

’’اب پاکستان تیار رہے اسے قیمت چکانا پڑے گی‘‘ مقبوضہ کشمیر میںفوجی چھائونی حملے کے بعد بھارتی خاتون وزیر دفاع دماغی توازن کھو بیٹھی، پاکستان کو سنگین نتائج کی دھمکی دے ڈالی

datetime 13  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)مقبوضہ جموں و کشمیر میں جموں کے علاقے سنجوان میں کشمیری مجاہدین کے چھائونی پر حملے کے بعد بھارت کے ایک بار پھر پاکستان پر الزامات کا سلسلہ جاری ہے اور اب بھارتی خاتون وزیر دفاع نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے پاکستان کو دھمکی دے ڈالی ہے۔ بھارتی وزیر دفاع نرملا سیتھارامان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔

نرملا سیتھا رامان نے پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوجی چھائونی پر حملہ کرنے والے حملہ آوروں کو پاکستان سے مدد فراہم کی گئی جبکہ مقامی طور پر ان کی مدد کی گئی ہے۔ بھارتی خاتون وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ تمام شواہد کو جمع کرلیا گیا ہے اور ہمیشہ کی طرح ہم حملوں کے ثبوت پاکستان کو فراہم کریں گے۔نرملا سیتھا راون نے پاکستان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ممبئی حملوں کے ذمہ دار آج بھی پاکستان میں آزاد گھوم رہے ہیں تاہم پاکستان کو مقبوضہ کشمیر میں فوجی چھاؤنی پر حملوں کی قیمت چکانا پڑے گی۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں کشمیری مجاہدین نے جموں کے علاقے سنجوان میں قائم بھارتی قابض فوج کی چھائونی پر حملہ کیا تھا جس میں بھارتی میڈیا کے مطابق 5فوجی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قبضے کے خلاف کشمیری مجاہدین برسرپیکار ہیں ۔خیال رہے کہ اس س قبل پٹھان کوٹ ائیر بیس پر حملے کے بعد بھی بھارت نے اسی طرح کے پاکستان پر الزام عائد کئے تھے تاہم تحقیقات کے بعد بھارت کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اس کے تمام الزامات غلط ثابت ہوئے تھے۔پٹھان کوٹ ائیر بیس حملے میں بھی بھارتی فوج کو بڑا جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا تھا اور سنجوان فوجی چھائونی میں بھی بھارتی فوج اپنی کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے ایک بار پھر تمام الزامات پاکستان پر عائد کر دئیے ہیں۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…