منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

تحریک انصاف میں بغاوت، خیبرپختونخوا سے صفایا ہو گیا بنی گالہ میں ہنگامی اجلاس ،عمران خان صورتحال دیکھ کر پریشان

datetime 6  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کے قومی اخبار کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سینٹ انتخابات میں تحریک انصاف کو زچ کرنے کیلئے مسلم لیگ ن ، پیپلزپارٹی، جمعیت علمائے اسلام (ف)، مسلم لیگ ن سمیت عوامی نیشنل پارٹی نے خیبرپختونخواہ اسمبلی سے اپنی سینیٹر منتخب کرانے کیلئے ارکان صوبائی اسمبلی سے بیک ڈور رابطوں کا آغاز کر دیا ہے۔ رپورٹ میں ذرائع کے

حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اراکین صوبائی اسمبلی کو ترغیب دینے کیلئے سب سے پیش پیش انجینئر امیر مقام ہیں جنہیں سابق وزیراعظم نواز شریف کی مکمل آشیرباد حاصل ہے۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کی کوشش ہے کہ خیبرپختونخواہ کی صوبائی اسمبلی سے تین سے چار سینیٹر منتخب کرائے جائیں جبکہ دوسری جانب پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری جنہیں جوڑ توڑ کا ماہر سمجھا جاتا ہے نے بھی خیبرپختونخوا اسمبلی سے چند نشستیں لینے کی حکمت عملی طے کی ہے جس کیلئے پارٹی کے بعض اہم رہنمائوں کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں گزشتہ دنوں سابق صدر آصف علی زرداری کے رفیق خاص ڈاکٹر قیوم سومرو کو ’’خصوصی مشن‘‘پر پشاور بھیجا گیا تھا ۔ ذرائع کے مطابق حکومت کے اہم حلیف اور پی ٹی آئی کے سخت نقاد مولانا فضل الرحمن نے سینیٹر طلحہ محمود، سابق سینیٹر حاجی غلام علی کو ’’خصوصی ٹاسک‘‘سونپا ہے جبکہ اے این پی کے حاجی برادران بھی خاصے متحرک ہیں ۔ ذرائع کے مطابق اس ضمن میں پی ٹی آئی کے منحرف اراکین صوبائی اسمبلی کا کردار انتہائی اہم ہو گا۔ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق بنی گالہ موجودہ صورتحال سے سخت پریشان ہے یہی ہے کہ اتوار کو ہونے والے اجلاس میں متوقع ہارس ٹریڈنگ کے حوالے سے حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کو اپنے اراکین کی اکثریت کے حوالے

سے شکوک و شبہات ہیں جبکہ آزاد ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی خیبرپختونخواہ اسمبلی میں بڑی مشکل سے دو سے تین نشتیں حاصل کر سکتی ہے۔ واضح رہے کہ صوبائی اسمبلی میں پارٹی پوزیشن کے حوالے سے پی ٹی آئی 61ارکان کے ساتھ سرفہرست ہے جبکہ جے یو آئی اور ن لیگ 16، 16، قومی وطن پارٹی 10، جماعت اسلامی 7، پیپلزپارٹی 6، اے این پی 5جبکہ حکومتی بنچوں پر بیٹھے دو آزاد ارکان بھی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…