ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

270 گاڑیوں کا اکلوتا مالک ٹیکس دیتا ہی نہیں، گاڑیاں رکھنے والے اور پراپرٹی خریدنے والے بھی زد میں آ گئے، حکومت نے ’’ٹیکس وصولی‘‘ کیلئے بڑا فیصلہ کر لیا

datetime 2  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حکام نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کو بتایا کہ امراء کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے گزشتہ دس سال میں ملک بھر میں بنائے جانے والے کمرشل پلازوں اور ان کے مالکان کی نشاندہی کا عمل مکمل ہو گیا ہے اور ابتدائی طور پر گزشتہ دس سالوں کے دوران اسلام آباد میں بنائے گئے 450 پلازوں کی نشاندہی ہو چکی ہے اور ان کے مالکان کی نشاندہی بھی کر لی گئی ہے،

ایف بی آر کے حکام نے قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا کہ اس کے بعد رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں بھاری سرمایہ کاری کرنے والے امرا کی نشاندہی کے لیے ہاؤسنگ سکیموں پر توجہ دیں گے، قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ راولپنڈی میں 270 گاڑیاں ایک ایسے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ ہوئی ہیں جو ٹیکس گزار نہیں ہے، سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس زیر صدارت چیئرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا ہوا۔ اس اجلاس میں سینیٹر عثمان خان کاکڑکے سینیٹ اجلاس میں توجہ دلاؤ نوٹس برائے کسٹم انسپکٹر کی 30 پروموشنل سیٹوں اس کے علاوہ مسابقتی کمیشن پاکستان کی چیئر پرسن کی تعیناتی، ٹیکس کی بنیاد کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کے معاملات کے علاوہ بے نامی ٹرانزیکشن کے حوالے سے ایف بی آر کی پراگریس رپورٹ کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا، سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے 53 کسٹم حکام نے پروموشن کا امتحان پاس کیا اور صرف 10 کو پروموٹ کیا گیا ہے۔ اس موقع پر ایف بی آر کے حکام نے قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا کہ پروموشن اور نئی تقرریوں کا کوٹہ صرف 50 فیصد ہے۔ حکام نے بتایا کہ 2015 تک نئی تقرریوں پر پابندی کی وجہ سے پروموشن کوٹہ میں 78 فیصد لوگ آ چکے ہیں جب تک اس میں توازن قائم نہیں ہوگا نئی پروموشن نہیں ہو سکتی۔ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے آئندہ اجلاس میں صوبوں کے لحاظ سے کوٹے کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…