جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ہم مدد مانگنے والے کو اپنی آدھی روٹی دے دیتے ہیں، لیکن جب کوئی حملہ کرتا ہے ہم اس کا منہ توڑ جواب دیتے ہیں،ترک صدر

datetime 28  جنوری‬‮  2018 |

استنبول(آن لائن) ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہاہے کہ دوستی کا ہاتھ بڑھانے والے سے بغلگیر ہونا ترک قوم کا شیوہ ہے،شام کی دہشت گرد تنظیم ’’وائے پی جی‘‘ کے سرغنہ قندیل ہونے کا دنیا بھر نے مشاہدہ کر لیا ہے اور صرف ہمارا ایک اتحادی اس حقیقت کو قبول کرنے سے انکار کر رہا ہے۔ترک میڈیا رپورٹ کے مطابق صدر اردوان نے استنبول میں قاسم پاشا ٹنل کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شام میں اب جنگ کرنے

کی سکت نہ رکھنے والی داعش کا وجود باقی نہیں بچا لیکن اس کو بہانہ بناتے ہوئے اس ملک میں ابھی بھی اسلحہ کے انبار لگائے جا رہے ہیں۔ساری دنیا جان گئی ہے کہ شام کی دہشت گرد تنظیم کا سرغنہ قندیل میں ہے اگر کسی کو اس حقیقت پر اتفاق نہیں وہ ہمارا ایک اتحادی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہماری سرحدوں کے دوسری جانب سے ہماری سر زمین پر سینکڑوں، ہزاروں بار چھیڑ خانی کی گئی ہے، ان حملوں میں متعدد معصوم انسانوں کی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔صدر اردوان نے کہا کہ شاخِ زیتون کارروائی میں 8 دنوں کے اندر447 دہشت گردہلاک کر دیئے گئے ہیں جس کے مقابل ترک اور آزاد شامی فوج کو 16 جانوں کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ اگرکوئی ہماری طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتا ہے توہم اس سے ضرور بغلگیر ہوتے ہیں، ہم مدد مانگنے والے کو اپنی آدھی روٹی دے دیتے ہیں، لیکن جب کوئی ہم پر حملہ کرتا ہے ہم اس کا منہ توڑ جواب بھی دیتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…