ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

قصورپولیس نے بچی سے زیادتی کے جرم میں شادی شدہ نوجوان کو مبینہ جعلی مقابلے میں ہلاک کر دیالیکن متاثرہ بچی کا ڈی این اے ملزم عمران سے میچ کر گیا، انتہائی افسوسناک انکشافات

datetime 25  جنوری‬‮  2018 |

قصور( مانیٹرنگ ڈیسک) پولیس تھانہ صدر قصور نے ایک ساڑھے چار سالہ بچی سے زیادتی کے جرم میں ایک شادی شدہ نوجوان کو مبینہ طور پر جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا۔لیکن متاثرہ بچی کا ڈی این اے ملزم عمران سے میچ کر گیا۔پولیس نے نوجوان کے ورثا کو احتجاج سے روکنے کے لیے اس کے جعلی پولیس مقابلے میں اس کے بھائی اور دیگر رشتہ داروں کو بھی نامزد کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق پولیس تھانہ صدر قصور نے چوبیس فروری دو ہزار سترہ کو ایک ساڑھے چار سالہ بچی ایمان فاطمہ کو زبردستی زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کر دینے کے الزام میں ایک شادی شدہ نوجوان مدثر کو مبینہ طور پر جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا۔مدثر کی ہلاکت پر اس کے ورثا نے پولیس کے خلاف احتجاج کیا۔جس پرپولیس تھانہ صدر قصور نے ظلم کی انتہا کرتے ہوئے پولیس مقابلہ والی ایف آئی آر میں ہی مدثر کے بھائی عدنان ولد منیر احمد اور عاشق ولد چھجو خاں وغیرہ کو بھی نامزد کر دیا۔ایفا آئی آر میں مدثر کو ایک ڈاکو ظاہر کیا گیا۔اور ایف آئی آر میں تحریر کیا گیا کہ ڈاکو مدثر کو اس کے ساتھیوں اس کے بھائی عدنان اور رشتہ دار عاشق نے فائرنگ کر کے قتل کیا۔اس مقدمے کو بنیاد بنا کر پولیس نے مدثر کے ورثا کو بلیک میل کیا اور ان کو جعلی پولیس مقابلے کی انکوائری کرانے،پیروی کرنے اوراحتجاج وغیرہ سے روک دیا۔پولیس گردی کی انتہا ہے کہ ایمان فاطمہ،جس سے زیادتی اور قتل کے جرم میں مدثر کو جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا اور اسی کے قتل کے جرم میں اس کے بھائی اور دیگر رشتے داروں کو حراست میں لیا گیااب اس بچی کا ڈی این اے زینب کے ملزم عمران سے میچ کر گیا ہے۔جس سے قصور پولیس کی کارکردگی اور جعلی پولیس مقابلوں کی حقیقت کا پول کھل گیا ہے۔ پولیس تھانہ صدر قصور نے ایک ساڑھے چار سالہ بچی سے زیادتی کے جرم میں ایک شادی شدہ نوجوان کو مبینہ طور پر جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…