ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

کوئی غلط کام نہیں کیا تو گرفتاری کیوں دوں؟ ان کاؤنٹرز کس نے کروائے؟ پولیس والوں کے گھروں پر چھاپوں کا سلسلہ نہ رکا تو کیا کروں گا؟ سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار میڈیا کے سامنے پھٹ پڑے

datetime 25  جنوری‬‮  2018 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)نقیب اللہ محسود قتل کیس میں معطل ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کا کہنا ہے کہ جب کوئی غلط کام نہیں کیا تو پھر گرفتاری کیوں دوں۔تفصیلات کے مطابق جمعرات کو سابق ایس ایس پی راؤانوار نے نجی ٹی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ انکانٹرز آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کی پالیسی ہیں اور میں نے

اس پر عمل کیا ہے،پولیس کے اعلی حکام کے اجلاسوں میں کہا گیا کہ جو بھی دہشتگرد ہے اسے زمین پر نہیں ہونا چاہیے، اعلی پولیس افسران کے احکامات پرعمل کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر میں نے سازش کی ہے تو پھر اعلی پولیس افسران بھی سازش میں آتے ہیں، اعلی پولیس افسران بھی مقدمے کی دفعہ 109 میں آئیں گے۔را انوار کا کہنا تھا کہ نقیب اللہ محسود قتل کیس کے معاملے پر جے آئی ٹی بنائی جائے اس کے سامنے پیش ہوں گا۔ان کا کہنا تھا کہ گرفتاری تب دوں جب کوئی غلط کام کیا ہو، جب کوئی غلط کام نہیں کیا تو پھر گرفتاری کیوں دوں، طریقے سے بات کرتے تو میں خود ساتھ دیتا۔انہوں نے کہا کہ میں خود چاہتا تھا کہ اصل بات پتہ چلے غلطی کس سے ہوئی، پولیس والوں کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں جو زیادتی ہے، چھاپوں کا سلسلہ نہ رکا تو آئی جی سمیت سب کیخلاف ڈکیتی کا مقدمہ درج کراؤں گا۔معطل ایس ایس پی ملیر نے کہا کہ دہشتگردوں کی ہٹ لسٹ پر موجود شخص کیخلاف ہی دہشتگردی کا مقدمہ درج کر دیا گیا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ سی ٹی ڈی، کرائمز برانچ اور لوکل پولیس بھی جعلی پولیس مقابلے کرتی ہے کیونکہ ان کے پولیس مقابلوں میں بھی اہلکار زخمی نہیں ہوتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…