ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

عاصمہ قتل کیس: سینٹ ارکان کی تفتیش کا جائزہ لینے کیلئے مردان آمد

datetime 25  جنوری‬‮  2018 |

پشاور ( آن لائن)سینیٹر نسرین جلیل ، سینیٹر شاہی سید اور سینیٹر نثار خان مردان کی عاصمہ قتل کیس میں ہونے والی تفتیش کا جائزہ لینے کیلئے جمعرات کے روز مردان گئے اور اس حوالے سے ہونے والی پیش رفت سے آگاہی حاصل کی۔ اس موقع پر انہوں نے مرحومہ کے والد، چچا اور دوسرے رشتہ داروں سے تعزیت کی اور انہیں یقین دلایا کہ پوری قوم انکے دکھ درد میں برابر کی شریک ہے۔

اس موقع پر ڈپٹی کمشنر مردان ڈاکٹر عمران حامد شیخ، ڈی آئی جی مردان محمد عالم شنواری ، ڈی پی او مردان ڈاکٹر میاں سعید اور دوسرے اعلیٰ افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔ سنیٹر نسرین جلیل نے اس موقع پر باتیں کرتے ہوئے کہا کہ عاصمہ ہم سب کی بچی تھی اور ایسے اندوہناک واقعات کو روکنے کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ انکے مردان کے دورے کا مقصد غمزدہ خاندان سے تعزیت کرنا اور متعلقہ حکام کی اس حوالے سے تفتیش میں ہر ممکن تعاون کرنا ہے۔ انہوں نے مرحومہ کے والد سے استفسار کیا کہ آیا وہ اس حوالے سے ہونے والی تفتیش سے مطمئن ہیں، جس کے جواب میں انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا ۔ ڈی آئی جی مردان محمد عالم شنواری اور ڈپٹی کمشنر مردان ڈاکٹر عمران حامد شیخ نے اس مو قع پر باتیں کرتے ہوئے بتایا کہ انٹر نیٹ اور دوسرے ذرائع سے ملنے والی فحش مواد نوجوان نسل کو گمراہ کررہا ہے ، جس کی وجہ سے معاشرے میں عجیب و غریب قسم کے واقعات رونما ہونے لگے ہیں ۔ انہوں نے اس موقع پر تجویز دی کہ وفاقی سطح پر اس حوالے سے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ سینیٹر شاہی سید نے اسکے جواب میں کہا کہ وہ اس بات کو وفاقی سطح پر اٹھائینگے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…