ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

زینب قتل کیس کا ملزم عمران 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

datetime 24  جنوری‬‮  2018 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) انسداد دہشت گردی کی عدالت نے زینب قتل کیس کے ملزم عمران کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرکے اسے پولیس کی تحویل میں دے دیا۔پنجاب کے ضلع قصور سے اغواء کی جانے والی 7 سالہ بچی زینب کو زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا تھا جس کی لاش 9 جنوری کو ایک کچرا کنڈی سے ملی تھی۔پولیس نے 14 روز کی تگ و دو کے بعد گزشتہ روز ملزم عمران کو گرفتار کیا جو قصور میں دیگر 8 بچیوں کے قتل میں بھی ملوث ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق ملزم عمران کو پولیس نے انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا جہاں اے ٹی سی کے جج شیخ سجاد کی عدالت نمبر ایک میں پیش کیا گیا۔پولیس ملزم کو انتہائی سخت سیکیورٹی میں عدالت لائی اور اس دوران ملزم کے چہرے پر کپڑا ڈالا ہوا تھا، ملزم کی عدالت میں پیشی کے دوران غیر متعلقہ پولیس اہلکاروں اور اسٹاف کو عدالت سے باہر نکال دیا گیا۔پولیس حکام نے ملزم سے کی گئی تفتیش سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی اور ملزم کے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی تھی۔انسداد دہشت گردی کی عدالت کےجج شیخ سجاد نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ کیا ملزم کا پولی گرافی ٹیسٹ کیا گیا؟ جس پر استغاثہ نے جواب دیا جی ہاں ملزم کا پولی گرافی ٹیسٹ بھی کرایا گیا جس میں ملزم نے زینب کے ساتھ زیادتی اور اسے قتل کرنے کا اعتراف کیا۔عدالت نے نکتہ اٹھایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزم کی داڑھی تھی وہ کہاں ہے؟ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے واردات کے بعد داڑھی کٹوادی تھی۔عدالت نے کہا کہ آپ کے پاس ملزم کے اس کیس میں ملوث ہونے کے کیا ثبوت ہے؟ استغاثہ نے بتایا کہ ملزم کا ڈی این اے میچ کرگیا ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ ملزم کا ڈی این اے کب کرایا گیا؟ تو استغاثہ کا کہنا تھا کہ تین روز قبل ملزم کا ڈی این اے کرایا گیا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج سرکاری وکیل سے پوچھا کہ آپ ملزم کا 15 روزہ جسمانی ریمانڈ کیوں مانگ رہے ہیں؟اس پر سرکاری وکیل نے کہا کہ ملزم سے 7 بچیوں کا ڈی این اے میچ کرنا ہے اس لیے ملزم کے ریمانڈ کی ضرورت ہے۔عدالت نے ملزم کے 15 روزہ ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا اور اسے پولیس کے حوالے کردیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…