ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

زینب کے قاتل عمران علی ولد ارشد کا گرفتاری کے بعد پہلا بیان سامنے آگیا

datetime 24  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) قصور میں زینب کو زیادتی اور پھر قتل کرنے والے سفاک ملزم عمران کا گرفتاری کے بعد پہلا بیان سامنے آگیا ۔نجی ٹی وی کے مطابق ملزم عمران نے کہا ہے کہ بچیوں کا قتل میں اپنی مرضی سے نہیں کرتا تھا یہ کام مجھ پر آئے جن کراتے تھے۔تفتیشی ٹیم کواپنے بیان میں ملزم عمران نے بچیوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کا اعتراف کیا تاہم یہ بھی کہا کہ وہ یہ کام اپنی مرضی سے نہیں کرتا تھا بلکہ جن اس سے کراتے تھے۔

دوران تفتیش  معلوم ہوا ہے کہ عمران تعویز گنڈہ بھی کرتا تھا۔ سفاک عمران بچیوں کو زیر تعمیر گھروں میں لے جا کر پہلے تشدد اور زیادتی کا نشانہ بناتا بعدازاں انہیں قتل کرکے لاش کسی خالی پلاٹ یا کچرا کنڈی میں پھینک دیتا تھا۔نجی ٹی وی کے مطابق ملزم کا نام عمران علی ولد ارشد ہے جس کا تعلق ترکھان برادری سے ہے اور اس کی عمر 24 سال ہے۔ ملزم عمران 4 جماعتیں پاس ہے جس کا والد نفسیاتی مریض تھا جو گزشتہ ماہ انتقال کرگیا۔ ملزم کا ایک بھائی فرحان ، دوسرا فہد اور تین بہنیں ہیں ایک کے علاوہ تمام غیرشادی شدہ ہیں،واضح رہے کہ ملزم کی گرفتاری گزشتہ روز منظر عام پر لائی گئی تھی ۔دریں اثنا  سیریل کلر عمران کی گرفتاری کے بعد شہر بھر کی مساجد اور گھروں میں شہریوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور شکرانے کے نوافل ادا کئے۔ اس موقع پر لوگوں نے شہر میں امن و سلامتی اور خوف سے نجات کیلئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔ لوگوں نے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بچے اور بچیوں کی حفاظت کیلئے بھی خصوصی دعائیں کیں۔ دوسری جانب اہل محلہ اور اور اہل علاقہ سمیت قصور کے شہریوں نے اعلان کر دیا ہے کہ اگر معصوم بچیوں کے قاتل عمران عرف مانا کو عدالت سے  سزائے موت ملنے کے بعد پھانسی دی گئی تو کوئی بھی اس کے نماز جنازہ میں شرکت نہیں کرے گا۔ جبکہ قصور شہر کے علمائے کرام اور مذہبی حلقے نے عمران کی ممکنہ نماز جنازہ پڑھانے سے بھی انکار کر دیا ہے ۔قصور شہر کے مذہبی حلقوں کا ایک نامور نام مفتی حامد علی قادری کا بھی ہے ۔ مفتی حامد علی قادری کا کہنا تھا کہ مجھ سمیت دیگر ذمہ دار عالم دین اس درندہ صفت اور سفاک انسان کی نماز جنازہ نہیں پڑھائیں گے۔

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…