ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

ہم پاکستان کے ساتھ پیوستگی اور مؤثر طور پر کام کرنے کے خواہاں ہیں لیکن اگر حالات جوں کے توں رہے تو ۔۔۔! امریکہ نے ایک اور انتباہ کردیا

datetime 20  جنوری‬‮  2018 |

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) ایک اعلیٰ امریکی اہل کار نے طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کریں۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی معاون وزیر خارجہ جان سلیوان نے افغانستان کے معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کو بتایا کہ میدانِ جنگ میں فتح حاصل نہیں کی جاسکتی، اس کا سیاسی حل ڈھونڈنا ضروری ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمیں یہ حقیقت ضرور تسلیم کرنا ہوگی کہ افغان حکومت طالبان کے ساتھ امن مذاکرات شروع کرنے پر بضد ہے،

جب کہ طالبان کی جانب سے دوطرفہ مفاد میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی جاتی۔اْنھوں نے کہا کہ سوچ میں تبدیلی ضروری ہے۔عہدے دار نے کہا کہ کسی سمجھوتے پر پہنچنے کے لیے طالبان کو ٹھوس عزم کا اظہار کرنا ہوگا کہ وہ دہشت گردی کے ساتھ روابط ختم کریں گے، تشدد بند کردیں گے اور افغان آئین کو تسلیم کریں گے۔اْنھوں نے مزید کہا کہ یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے، ہمیں مل کر طالبان کو تنہا کرنا ہوگا؛ جب کہ وہ آمدن اور ہتھیاروں کے ذرائع تلف کرنے پر تیار ہوں، اور اتحاد اور برجستہ عزم کا اظہار کریں کہ وہ صرف ایک ہی طریقے سے اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں، جو مذاکرات کی میز ہے، نا کہ میدانِ جنگ۔ اْنھوں نے کہا کہ نئی حکمت عملی کے تحت ملک میں مزید فوجی تعینات کیے جائیں گے جب کہ دہشت گردی کی پشت پناہی سے روکنے کے لیے ہمسایہ ملک، پاکستان پر دباؤ بڑھایا جائے گا۔اْنھوں نے کہا تھا کہ اْن کی پالیسی قومی تعمیر پر نہیں بلکہ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر مرتکز رہے گی۔معاون وزیر خارجہ سلیوان نے کہا کہ امریکہ۔افغان مشترکہ کارروائی کی مدد سے ملک کے مشرقی علاقے میں داعش کے خودساختہ دہشت گردوں کے خلاف پہلے ہی خاصی پیش رفت حاصل ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں علاقے پر اْن کا قبضہ واگزار کرایا گیا ہے اور گروپ کے عسکریت پسندوں کی ایک تہائی کا صفایا کر دیا گیا ہے۔سلیوان نے کونسل کو بتایا کہ ہم پاکستان کے ساتھ پیوستگی اور مؤثر طور پر کام کرنے کے خواہاں ہیں۔ لیکن اگر حالات جوں کے توں رہے تو کامیابی حاصل نہیں ہوگی، یوں کہ ملک کی سرحدوں کے اندر دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہیں ہوں، جنھیں جاری رکھنے کی اجازت دی جاتی رہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…