بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

ملالہ یوسف زئی نےبھارتی اداکارہ ٹوئنکل کھنہ اور مردوں کیساتھ ایسی چیز ہاتھ میں پکڑ کرتصویر بنوا لی کہ دیکھ کر پاکستانی مرد اور خواتین شرم سے پانی پانی ہو جائیں، سوشل میڈیا پر طوفان برپا ہو گیا

datetime 20  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی ادارکارہ ٹوئنکل کھنہ جو کہ معروف بھارتی اداکار اکشے کمار کی اہلیہ بھی ہیں سماجی اور خواتین کے مسائل اور ان کے حقوق کیلئے آواز اٹھاتی رہتی ہیں ۔ ان کی حال میں اپنی بنائی گئی فلم ’’پیڈ مین ‘‘کی پرموشن کے سلسلے میں آکسفورڈ یونیورسٹی آمد ہوئی ۔ اس فلم کی خاص بات یہ ہے کہ یہ دنیا کی پہلی فلم ہے جس میں حیض سے متعلق حفظان صحت کے

مسئلے کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ٹوئنکل کھنہ کے دورے کے دوران ملالہ یوسف زئی بھی وہاں موجود تھیں اور انہوں نے ٹوئنکل کھنہ کی حیض کے حوالے سے حفظان صحت کےمسائل کو اجاگر کرنے پر ان کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے اس مسئلے پر ان سے گفتگو کی بھی ہے۔ ٹوئنکل کھنہ کی مہم کی حمایت کے اظہار کیلئے ملالہ یوسف زئی نے ٹوئنکل کھنہ اور دیگر حاضرین کے ہمراہ جن میں خواتین اور مرد دونوں شامل تھے ’’سینیٹری پیڈ‘‘اٹھا کر گروپ فوٹو بھی بنوایا۔ ملالہ یوسف زئی کا یہ فوٹو جیسے ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہوا سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہو گیا ہے ۔ سوشل میڈیا صارفین اس طرح سینیٹری پیڈ ہاتھ میں اٹھائے ملالہ یوسف زئی کے فوٹو پر شدید برہم ہیں اور اسے پرائیویسی اور مشرقی اقدار کے خلاف اقدام قرار دے رہے ہیں۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی بھارت میں ٹوائلٹ کی اہمیت اجاگر کرنے کیلئے ٹوئنکل کھنہ نے ممبئی کے ساحل پر ایک شخص کی کھلے عام رفع حاجت کرنے کے دوران کی تصویر بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دی تھی جس کی وجہ سے انہیں سوشل میڈیا پر بھارتی صارفین کی طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا ۔ ٹوئنکل کھنہ کی حساس موضوعات پر متنازعہ طریقے سے مسائل کو اجاگر کرنے کی کوششوں کو جہاں اہمیت دی جاتی ہے وہیں سوشل میڈیا پر ان کی ان حرکات کی بدولت وہ تنقید کا بھی نشانہ بنتی نظر آتی ہیں جبکہ حالیہ تصویر میں ان کی فلم کی پرموشن کیلئے غیر مناسب طریقہ کار اپنانے پر ملالہ یوسف زئی کو سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بننا پڑ گیا ہے۔

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…