ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

آرمی چیف نے فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ10 دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کر دی ،آئی ایس پی آر نے تفصیلات جاری کردیں

datetime 20  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ10 دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کر دی ہے۔آرمی چیف نے جن دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کی گئی ہے وہ ملک میں دہشتگردی کی مختلف کارروائیوں میں ملوث تھے اور انہیں فوجی عدالتوں نے سزائے موت کا حکم سنا رکھا تھا۔آئی ایس پی آر کے مطابق موت کی سزا پانیوالے دہشت گرد ملک میں دہشت گردی کی کارروائیوں، شہریوں

اور فوجیوں کے قتل، سیکیورٹی فورسز اور تعلیمی اداروں پر حملوں میں ملوث تھے۔مذکورہ 10 دہشت گرد مجموعی طور پر 41 سیکیورٹی اہلکاروں کے قتل اور 33 کو زخمی کرنے میں ملوث تھے اور ان کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ و بارود بھی برآمد ہوا تھا۔فوجی عدالتوں سے مذکورہ 10 دہشت گردوں کی سزائے موت کے علاوہ 3 دیگردہشت گردوں کو مختلف مدت کیلئے قید کی سزا بھی سنائی گئی ۔چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے جن دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کی گئی ہے ان میں شامل سمیع الرحمان اور عظیم خان کالعدم تنظیم سے تعلق رکھتے تھے یہ دونوں میجر محمد احسان، 9 فوجیوں اور 2 پولیس اہلکاروں کے قتل اور 13 افراد کو زخمی کرنے میں ملوث تھے۔ اس کے علاوہ ان دونوں سے اسلحہ اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا تھا۔دونوں دہشت گردوں نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف کیا اور دونوں کو فوجی عدالت نے سزائے موت سنائی۔دہشت گرد ارشد بلال اور انور علی بھی کالعدم تنظیم سے تعلق رکھتے تھے۔ دونوں مجرمان مسلح افواج پر حملوں میں ملوث پائے گئے اور ان کے حملوں میں 9 فوجی شہید اور 9 زخمی ہوئے۔دونوں مذکورہ دہشت گردسوات اور لنگر میں گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکولوں کو تباہ کرنے اور دھماکا خیز مواد رکھنے میں بھی ملوث تھے۔ فوجی عدالت نے جرائم کا اعتراف کرنے پر انہیں سزائے موت سنائی۔دہشت گرد محمد علیم اور فضل

علیم کالعدم تنظیم کے رکن تھے اور دونوں قانون نافذ کرنیوالے اداروں اور پاکستان کی مسلح افواج پر حملوں میں ملوث تھے جن کے نتیجے میں چار فوجیوں کی شہادت ہوئی۔ مذکورہ دہشت گرد گورنمنٹ بوائز ہائی سکول نان گولائی سوات کو تباہ کرنے میں ملوث تھے ۔ دونوں نے مجسٹریٹ اور ٹرائل کورٹ کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف کیا اور انہیں موت کی سزا سنائی گئی۔ دہشت گرد رسول محمد بھی ایک کالعدم تنظیم کا رکن تھا وہ قانون نافذ کرنیوالے اداروں اور پاکستان کی مسلح افواج پر حملوں میں ملوث تھا جس کے نتیجے میں چار فوجی شہید ہوئے،

مجرم نے ایک شہری سید رحمن اور پولیس کے ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر ارشاد علی ، ہیڈکانسٹیبل سرور علی خان اور ہیڈ کانسٹیبل شیر احمد کے قتل میں دیگر دہشت گردوں کی مدد کی ۔ دہشت گرد سہیل احمد کالعدم تنظیم کا رکن تھا وہ معصوم شہریوں کے قتل اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں پر حملوں میں ملوث تھا جن کے نتیجے میں تین شہریوں ، سب انسپکٹر مصطفی خان اور ایک پولیس کانسٹیبل کی موت واقعہ ہوئی جبکہ چار دیگر زخمی ہوئے اس کے قبضے سے دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا اس نے مجسٹریٹ اور ٹرائل کورٹ کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف کیا اور اسے موت کی سزا سنائی گئی۔

دہشت گرد نعمت اللہ بھی کالعدم تنظیم کارکن تھا وہ پاکستان کی مسلح افواج پر حملوں میں ملوث تھا جس کے نتیجے میں دو فوجیوں کی شہادت اور چار دیگر زخمی ہوئے اس کے قبضے سے آتشین اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا ۔مجرم نے مجسٹریٹ اور ٹرائل کورٹ کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف کیا اور اسے موت کی سزا سنائی گئی۔ دہشت گرد رحمت علی بھی کالعدم تنظیم کا رکن تھا اور وہ پاکستان کی مسلح افواج پر حملوں میں ملوث تھا جن کے نتیجے میں ایک فوجی شہید ہوا اس کے قبضے سے آتشین اسلحہ برآمد ہوااس نے مجسٹریٹ اور ٹرائل کورٹ کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف کیا اور اسے موت کی سزا سنائی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…