جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی شہری کتنے ہزار غیر ملکی خواتین کو دلہن بنا کر لے آئے، کونسےشہر کے رہائشی مرد سب سے زیادہ شادیاںکرتے ہیں، سعودی حیاتیاتی ماہر کی رپورٹ میں دلچسپ انکشافات

datetime 18  جنوری‬‮  2018 |

ریاض(سی پی پی) سعودی عرب کے مرد حضرات ایک سے زاید شادیاں کرنے کے حوالے سے جانے جاتے مگر مملکت کے تمام شہروں میں یہ شرح ایک جیسی نہیں۔ کثرت ازدواج کے حوالے سے سعودی عرب کے دو شہر الباحہ اور حائل سب سے آگے ہیں جب کہ مشرقی گورنری اور تبوک کا علاقہ دوسری شادی کرنے والوں میں سب سے پیچھے ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق سعودی عرب کے

حیاتیاتی اعدادو شمار کے ماہر ڈاکٹر ابراہیم الجعفری کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کی تفصیلات ٹوئٹر پر شائع کی گئی ہیں۔اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ الباحہ اور حائل کے علاقے ایک سے زاید شادیوں یا دوسری شادی کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔اسی طرح غیرملکیوں سے شادی کرنے کا رحجان دارالحکومت الریاض میں سب سے زیادہ ہے۔ الریاض میں 29 ہزار اور مکہ مکرمہ میں 40 ہزار سعودیوں نے دوسرے ملکوں کی خواتین سے شادیاں کر رکھی ہیں۔ڈاکٹر الجعفری کے مطابق دوسری بار شادی کرنے والے مردوں اور خواتین کے تناسب میں واضح فرق بھی دکھائی دیتا ہے۔مرد حضرات ایک کے بعد دوسری شادی کرتے ہیں جب کہ خواتین میں سے بعض طلاق ہونے کے دوسری شادی نہیں کرتیں۔رپورٹ کے مطابق مشرقی گورنری اور تبوک شہر میں دوسری شادی کا سب سے کم رحجان ہے۔ مشرقی علاقوں میں دوسری شادی کرنے والوں کی تعداد 0.3 فی صد اور تبوک میں 1.3 فی صد ہے جب کہ الباحہ میں 14.2 فی صد ہے جوکہ کثرت ازدواج کے حوالے سے سب سے زیادہ ہے۔ زیادہ شادیاں کرنے کے اعتبار سے دوسرا نمبر حائل گورنری کا ہے جہاں 11.8 فی صد افراد نے ایک سے زاید شادیاں کی ہیں۔الباحہ اور حائل میں زیادہ شادیاں کرنے کے اسباب کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔ ممکن سماجی اور ماحولیاتی عوامل اس کی وجہ ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…