جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

لبنان میں پناہ گزین انتہائی غربت میں رہ رہے ہیں،اقوام متحدہ

datetime 14  جنوری‬‮  2018 |

واشنگٹن(این این آئی)اقوام متحدہ کے تین اہم اداروں ، پناہ گزینوں سے متعلق ادارہ ، بچوں کا ادارہ یونیسیف اور عالمی ادارہ خوارا ک کے ایک سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ لبنان میں قیام پذیر دس لاکھ سے زیادہ پناہ گزینوں میں سے تین چوتھائی سے زیادہ غربت کی لکیر سے نیچے چار ڈالر یومیہ سے بھی کم آمدنی پر گزارہ کر رہے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق لگ بھگ سات سال کی جنگ کے بعد اقوام متحدہ کے سروے سے

معلوم ہوا کہ لبنان میں شام کے پناہ گزین پہلے سیزیادہ غریب ہیں اوار ان کے لیے گزر اوقات پہلے سے زیادہ مشکل ہو گئی ہے ۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ پناہ گزینوں کے گھرانوں کا ایک فرد ایک ماہ میں اوسطاً 98 ڈالر خرچ کرتا ہے ۔ اس رقم کا لگ بھگ نصف خوراک پر خرچ ہوتا ہے۔اس سروے کا اہتمام کرنے والے اقوام متحدہ کے اداروں کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زیادہ تر پناہ گزینوں کو خوراک ، صحت کے

اخراجات اور رہائش کا کرایہ ادار کرنے کے لیے رقم ادھار لینے کی ضرورت پڑتی ہے اور ہر دس میں سے نو قرض کے بوجھ تلے ہوتے ہیں ۔ پناہ گزینوں کے امور سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کے ترجمان ولیم سپرینڈلرنے کہاکہ یہ قرض پناہ گزینوں کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ قانونی حیثیت حاصل کرنا مسلسل ایک چیلنج ہے جس کے نتیجے میں پناہ گزینوں کے لیے گرفتاری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور ان کے لیے اپنی شادی رجسٹر کرانا ایک مسئلہ بن جاتا ہے اور ان کے لیے روزانہ کی مزدوری حاصل کرنا، اپنے بچوں کو اسکول بھیجنا یا ان کا علاج کروانا اور بھی مشکل ہو جاتا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…