جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

سعودی طالبعلم دوران امتحان انتقال کر گیا، والدین غم سے نڈھال

datetime 12  جنوری‬‮  2018 |

ریاض (آئی این پی)سعودی طالب علم کی دوران امتحان ناگہانی موت، خاندان صدمے سے دوچار ہوگیا۔ بزرگوں کا کہنا ہے کہ موت ایک ناگہانی چیز ہے اور کوئی پتا نہیں کب کس کا بلاوا آ جائے۔ سعودی عرب میں ہائی سکول کے طالب علم معاذ مسلم سلوم العوفی کی ناگہانی موت بھی ایک المناک واقعہ ہے جس نے پورے خاندان کو صدمے سے دوچار کر دیا۔ذرائع کے مطابق معاذ العوفی مدینہ منورہ کے قیس بن سعد الانصاری

ہائی سکول میں میٹرک کا طالب علم تھا۔ وہ امتحان کے آخری پرچے کے لیے گھر سے نکلنے سے قبل ماں کے پاس گیا اور اس سے کہا کہ وہ اس کے لیے دعا کرے تاکہ اس کا یہ آخری پرچہ بھی اچھا ہو۔ ماں نے پیار اور دعاں کے ساتھ اپنے جواں سال بیٹے کو رخصت کیا۔ مگر اسے کیا معلوم کہ وہ اپنے لخت جگر کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے الوداع کر رہی ہے۔معاذ اللعوفی اسکول میں پہنچا اور وقت مقررہ پر امتحان کے آخری پرچے کے لیے امتحانی ہال میں بیٹھا۔ کچھ دیر بعد اچانک اس پرغشی کا دورہ پڑا جو اس کے لیے جان لیوا ثابت ہوا۔ مدینہ منورہ میں محکمہ تعلیم کیترجمان عمر بناوی نے کہا کہ معاذ کی موت طبعی تھی۔ سکول کے پرنسپل ناصر عبدالکریم نے بچے کے والدین سے تعزیت کی اور مسجد نبوی میں اس کی نماز جنازہ ادا کی گئی جس کے بعد اسے جنت البقیع میں سپرد خاک کر دیا گیا۔عمربناوی کا کہنا تھا کہ طالب علم کی اچانک موت نہ صرف اس کے خاندان بلکہ اسکول کے اساتذہ اور معاذ کے دوستوں ہم جماعتوں کو بھی گہرا صدمہ پہنچا ہے۔ معاذ العوفی کے والد نے بتایا کہ اس کا بیٹا مکمل طور پر تندرست اور صحت مند تھا۔ اسے کسی قسم کی کوئی بیماری لاحق نہیں تھی۔ وہ جب گھر سے نکلا تو بار بار اپنے ماں سے اپنے لیے دعاں کا کہہ رہا تھا۔متوفی کے والد نے بتایا معاذ العوفی بھلائی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا۔ اسے گاڑیوں کا بے پناہ شوق تھا اور وہ اکثر گاڑیوں کی تصویریں جمع کرتا رہتا مگر وہ تعلیم میں

بھی سکول میں کسی سے پیچھے نہیں تھا۔ پورا خاندان اس کی اچھی نمبروں سے کامیابی کے لیے پرامید تھا۔ مگر اللہ کی مشیت ہمارے ارادون پر غالب آ گئی اور جواں سال بیٹے کا بلاوا آ گیا۔ والد نے بتایا کہ اس کے بیٹے نے گذشتہ مسلسل تین جماعتوں کے امتحانات میں 90 فی صد نمبرات حاصل کیے تھے۔والد نے بتایا کہ اسکول میں پیپر کے دوران جب اس کی حالت اچانک بگڑی تو اس نے نگران سے کہا کہ وہ

بہت تھکاوٹ محسوس کرتا ہے۔ اس کے لیے ایمبولینس بلائی جائے۔ اس کے بعد اسے اچانک ایک بے ہوشی کا دورہ پڑا۔ اسے ہسپتال لے جایا گیا، جہاں اسے کچھ آفاقہ ہوا۔ جب اسے گھر لے جانے کی تیاری کی جانے لگی تو اس پر ایک بار پھر بیہوشی کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ اس وقت معاذ کے اہل خانہ اور کئی دوسرے اقارب بھی ہسپتال پہنچ چکے تھے۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…