اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

سعودی طالبعلم دوران امتحان انتقال کر گیا، والدین غم سے نڈھال

datetime 12  جنوری‬‮  2018 |

ریاض (آئی این پی)سعودی طالب علم کی دوران امتحان ناگہانی موت، خاندان صدمے سے دوچار ہوگیا۔ بزرگوں کا کہنا ہے کہ موت ایک ناگہانی چیز ہے اور کوئی پتا نہیں کب کس کا بلاوا آ جائے۔ سعودی عرب میں ہائی سکول کے طالب علم معاذ مسلم سلوم العوفی کی ناگہانی موت بھی ایک المناک واقعہ ہے جس نے پورے خاندان کو صدمے سے دوچار کر دیا۔ذرائع کے مطابق معاذ العوفی مدینہ منورہ کے قیس بن سعد الانصاری

ہائی سکول میں میٹرک کا طالب علم تھا۔ وہ امتحان کے آخری پرچے کے لیے گھر سے نکلنے سے قبل ماں کے پاس گیا اور اس سے کہا کہ وہ اس کے لیے دعا کرے تاکہ اس کا یہ آخری پرچہ بھی اچھا ہو۔ ماں نے پیار اور دعاں کے ساتھ اپنے جواں سال بیٹے کو رخصت کیا۔ مگر اسے کیا معلوم کہ وہ اپنے لخت جگر کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے الوداع کر رہی ہے۔معاذ اللعوفی اسکول میں پہنچا اور وقت مقررہ پر امتحان کے آخری پرچے کے لیے امتحانی ہال میں بیٹھا۔ کچھ دیر بعد اچانک اس پرغشی کا دورہ پڑا جو اس کے لیے جان لیوا ثابت ہوا۔ مدینہ منورہ میں محکمہ تعلیم کیترجمان عمر بناوی نے کہا کہ معاذ کی موت طبعی تھی۔ سکول کے پرنسپل ناصر عبدالکریم نے بچے کے والدین سے تعزیت کی اور مسجد نبوی میں اس کی نماز جنازہ ادا کی گئی جس کے بعد اسے جنت البقیع میں سپرد خاک کر دیا گیا۔عمربناوی کا کہنا تھا کہ طالب علم کی اچانک موت نہ صرف اس کے خاندان بلکہ اسکول کے اساتذہ اور معاذ کے دوستوں ہم جماعتوں کو بھی گہرا صدمہ پہنچا ہے۔ معاذ العوفی کے والد نے بتایا کہ اس کا بیٹا مکمل طور پر تندرست اور صحت مند تھا۔ اسے کسی قسم کی کوئی بیماری لاحق نہیں تھی۔ وہ جب گھر سے نکلا تو بار بار اپنے ماں سے اپنے لیے دعاں کا کہہ رہا تھا۔متوفی کے والد نے بتایا معاذ العوفی بھلائی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا۔ اسے گاڑیوں کا بے پناہ شوق تھا اور وہ اکثر گاڑیوں کی تصویریں جمع کرتا رہتا مگر وہ تعلیم میں

بھی سکول میں کسی سے پیچھے نہیں تھا۔ پورا خاندان اس کی اچھی نمبروں سے کامیابی کے لیے پرامید تھا۔ مگر اللہ کی مشیت ہمارے ارادون پر غالب آ گئی اور جواں سال بیٹے کا بلاوا آ گیا۔ والد نے بتایا کہ اس کے بیٹے نے گذشتہ مسلسل تین جماعتوں کے امتحانات میں 90 فی صد نمبرات حاصل کیے تھے۔والد نے بتایا کہ اسکول میں پیپر کے دوران جب اس کی حالت اچانک بگڑی تو اس نے نگران سے کہا کہ وہ

بہت تھکاوٹ محسوس کرتا ہے۔ اس کے لیے ایمبولینس بلائی جائے۔ اس کے بعد اسے اچانک ایک بے ہوشی کا دورہ پڑا۔ اسے ہسپتال لے جایا گیا، جہاں اسے کچھ آفاقہ ہوا۔ جب اسے گھر لے جانے کی تیاری کی جانے لگی تو اس پر ایک بار پھر بیہوشی کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ اس وقت معاذ کے اہل خانہ اور کئی دوسرے اقارب بھی ہسپتال پہنچ چکے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…