جمعرات‬‮ ، 08 اکتوبر‬‮ 2026 

سات سالہ بچی سے زیادتی،قصور میں پولیس کی فائرنگ سے کتنے افراد جاں بحق ہوئے اور کتنے زخمی ؟حتمی اعداد و شمار سامنے آگئے،انتہائی افسوسناک انکشافات

datetime 10  جنوری‬‮  2018 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سات سالہ بچی کو مبینہ زیادتی کے بعد قتل کرنے کے واقعہ کیخلاف احتجاج کے دوران پولیس کی فائرنگ سے زخمی ہونیوالے چارافراد کو جنرل ہسپتال لاہور منتقل کر دیا گیا ۔ سات سالہ بچی کے قتل کے خلاف احتجاج کے دوران مشتعل مظاہرین کی جانب سے ڈپٹی کمشنر آفس پر دھاوا بولے جانے پر پولیس اہلکاروں نے مبینہ فائرنگ کر دی تھی جس کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق جبکہ افضل ، عمیر ، سمیع اللہ اور اسد زخمی ہو گئے تھے۔

زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں ابتدائی طبی امداد کے بعد لاہور کے جنرل ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔دریں اثناء قصور میں سات سالہ زینب کے ساتھ زیادتی اور پھر قتل کرنے کے خلاف بدھ کو چائلڈ رائٹس موومنٹ، این اے سی جی،یونائیٹڈ گلوبل آرگنائزیشن آف ڈویلپمنٹ اور دیگر تنظیموں نے نیشنل پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا، جس میں سول زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر بچوں کے ساتھ زیادتیوں کی روک تھام اور ملزمان کے خلاف نعرے درج تھے۔مظاہرین نے خطاب کرتے ہوئے یوگڈ کے چیف ایگزیکٹیو اشتیاق الحسن گیلانی نے کہاکہ سات سالہ بچی کو اغوا کر کے زیادتی کرنا اور پھر بے دردی سے قتل کرنا بربریت ہے۔ایک طرف بچی کے والدین عمرے کی عظیم فرائض میں مصروف تو دوسری طرف زینب کی اندوہ ناک موت نے لواحقین،اہل علاقہ اور پوری قوم کو سوگ میں مبتلا کررکھا ہے۔بچے قوم کا مستقبل ہیں اگر ان کو تحفظ فراہم نہیں کرینگے تابناک مستقبل کا خواب پورا نہیں کیا سکتا۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں رونماء ہونے والے واقعات میں ملوث ملزمان کو اگر کیفر کردار تک پہنچایا جاتا تو آج معصوم زینت زندہ ہوتی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ پولیس سست روی کا مظاہرے کرنے کی بجائے ملزمان کو گرفتار کرکے نشان عبرت بنائے۔احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے دیگر مقررین نے کہا کہ قصورکے باسیوں پر اس سے پہلے بھی آفت ٹوٹ پڑی ہے، جب بچوں کے ساتھ نہ صرف زیادتیاں کی گئیں بلکہ ان کی ویڈیو بنا کر بلیک میل بھی کرتا رہا۔یہ سلسلہ اب بند ہو نا چاہیے اور حکام بالا کو اس طرح کے واقعات کی روک تھام کیلئے خصوصی اقدامات کرنی چاہیءں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…