اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

سات سالہ بچی سے زیادتی،قصور میں پولیس کی فائرنگ سے کتنے افراد جاں بحق ہوئے اور کتنے زخمی ؟حتمی اعداد و شمار سامنے آگئے،انتہائی افسوسناک انکشافات

datetime 10  جنوری‬‮  2018 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سات سالہ بچی کو مبینہ زیادتی کے بعد قتل کرنے کے واقعہ کیخلاف احتجاج کے دوران پولیس کی فائرنگ سے زخمی ہونیوالے چارافراد کو جنرل ہسپتال لاہور منتقل کر دیا گیا ۔ سات سالہ بچی کے قتل کے خلاف احتجاج کے دوران مشتعل مظاہرین کی جانب سے ڈپٹی کمشنر آفس پر دھاوا بولے جانے پر پولیس اہلکاروں نے مبینہ فائرنگ کر دی تھی جس کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق جبکہ افضل ، عمیر ، سمیع اللہ اور اسد زخمی ہو گئے تھے۔

زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں ابتدائی طبی امداد کے بعد لاہور کے جنرل ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔دریں اثناء قصور میں سات سالہ زینب کے ساتھ زیادتی اور پھر قتل کرنے کے خلاف بدھ کو چائلڈ رائٹس موومنٹ، این اے سی جی،یونائیٹڈ گلوبل آرگنائزیشن آف ڈویلپمنٹ اور دیگر تنظیموں نے نیشنل پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا، جس میں سول زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر بچوں کے ساتھ زیادتیوں کی روک تھام اور ملزمان کے خلاف نعرے درج تھے۔مظاہرین نے خطاب کرتے ہوئے یوگڈ کے چیف ایگزیکٹیو اشتیاق الحسن گیلانی نے کہاکہ سات سالہ بچی کو اغوا کر کے زیادتی کرنا اور پھر بے دردی سے قتل کرنا بربریت ہے۔ایک طرف بچی کے والدین عمرے کی عظیم فرائض میں مصروف تو دوسری طرف زینب کی اندوہ ناک موت نے لواحقین،اہل علاقہ اور پوری قوم کو سوگ میں مبتلا کررکھا ہے۔بچے قوم کا مستقبل ہیں اگر ان کو تحفظ فراہم نہیں کرینگے تابناک مستقبل کا خواب پورا نہیں کیا سکتا۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں رونماء ہونے والے واقعات میں ملوث ملزمان کو اگر کیفر کردار تک پہنچایا جاتا تو آج معصوم زینت زندہ ہوتی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ پولیس سست روی کا مظاہرے کرنے کی بجائے ملزمان کو گرفتار کرکے نشان عبرت بنائے۔احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے دیگر مقررین نے کہا کہ قصورکے باسیوں پر اس سے پہلے بھی آفت ٹوٹ پڑی ہے، جب بچوں کے ساتھ نہ صرف زیادتیاں کی گئیں بلکہ ان کی ویڈیو بنا کر بلیک میل بھی کرتا رہا۔یہ سلسلہ اب بند ہو نا چاہیے اور حکام بالا کو اس طرح کے واقعات کی روک تھام کیلئے خصوصی اقدامات کرنی چاہیءں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…