اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

آئندہ 24گھنٹوں میں حکومتوں کے خاتمے کافیصلہ،میاں نواز شریف حقائق کو (دوڑانے) کی بجائے خود دوڑے چلے جا رہے ہیں‘اس غلط حکمت عملی کا کیا نتیجہ نکلے گا؟جاویدچودھری کا تجزیہ‎

datetime 8  جنوری‬‮  2018 |

حکیم لقمان دنیا کی واحد شخصیت تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے نبوت یا حکمت میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیا اور آپ نے اپنے لئے حکمت چن لی‘ حکیم لقمان غلام تھے‘ پھلوں کے باغ میں کام کرتے تھے‘ ساتھی غلام باغ میں سے پھل چرا کر کھا جاتے تھے اور۔۔الزام آپ پر لگا دیتے تھے اور آپ سازش سازش کا واویلا کرنے کی بجائے صبر کرتے رہے تھے‘ ایک دن جب پانی سر سے اونچا ہو گیا تو آپ نے اپنے آقا کو مشورہ دیا آپ ہم سب کو گرم پانی پلا کر دوڑ لگوائیں‘

آپ چند لمحوں میں حقیقت تک پہنچ جائیں گے‘ آقا نے تمام غلاموں کو گرم پانی پلایا‘ خود گھوڑے پر بیٹھا اور غلاموں کو دوڑانا شروع کر دیا‘ تھوڑی دیر بعد تمام غلاموں نے قے کر دی‘ حضرت لقمان کے علاوہ سب کے پیٹ سے پھل نکل آئے اصل مجرم پکڑے گئے اور یوں حضرت لقمان بے گناہ ثابت ہو گئے‘ میاں نواز شریف اس واقعے سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں‘ یہ سازش سازش اور مجھے کیوں نکالا کی بجائے حکمت سے کام لیں‘ یہ حقائق کو گرم پانی پلائیں‘ دوڑائیں اور سارے راز باہر آ جائیں گے لیکن یہ حقائق کو دوڑانے کی بجائے خود دوڑے چلے جا رہے ہیں‘ یہ خود کو تھکا رہے ہیں‘ اس غلط حکمت عملی سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکے گا چنانچہ میاں صاحب کو چاہیے یہ خاموش رہیں یا پھر کھل کر بولیں‘ علامہ طاہر القادری اس بار پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے ہیں‘ انہوں نے پہلے پریس کانفرنس کی‘ پھر اے پی سی بلائی پھر ایکشن کمیٹی بنائی‘ کمیٹی نے 7 جنوری کی ڈیڈ لائین دی اور آج علامہ صاحب نے اگلا لائحہ عمل دے دیا‘ یہ اس بار سیریس دکھائی دے رہے ہیں‘ یوں محسوس ہوتا ہے یہ اس بار کامیاب ہو جائیں گے، کیا حکومت کو صورتحال کی سنجیدگی کا احساس ہے‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا جبکہ کل بلوچستان اسمبلی میں وزیراعلیٰ ثناء اللہ زہری کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جائے گی‘ کل کا دن پاکستان مسلم لیگ ن کیلئے اہم ہے‘ اگر کل بلوچستان اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو جاتی ہے‘ نیا چیف منسٹر آ جاتا ہے اور وہ چیف منسٹر اگر اسمبلی توڑ دیتاہے تو پھر سینٹ کے الیکشن نہیں ہو سکیں گے یوں ن لیگ اور ن لیگ کی ساری حکومتیں ٹوٹ جائیں گی‘ کیا حکومت کو اس خطرے کی سنجیدگی کا بھی اندازہ ہے‘ ہم یہ بھی ڈسکس کریں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…