جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

کراچی ٗ قتل ہونے والی اسکول پرنسپل کے شوہر علی حسن نے عدالت میں اقبال جرم کرلیا،انتہائی افسوسناک انکشافات

datetime 24  دسمبر‬‮  2017 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) سولجر بازار میں فائرنگ سے قتل ہونے والی اسکول پرنسپل کے شوہر علی حسن نے عدالت میں اقبال جرم کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے سولجر بازار میں قتل ہونے والی اسکول پرنسپل عنبرین فاطمہ کے کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ مقتولہ کے شوہر علی حسن نے عدالت میں بیوی کے قتل کا اعتراف کرلیا۔ پولیس نے سٹی کورٹ میں شوہر علی حسن، دوسری بیوی سحر اور سالے بالاج کو عدالت میں پیش کیا۔

علی حسن نے کہا کہ کیس میں گرفتار دیگر ملزمان سحر اور بالاج کا واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ اعتراف جرم کررہے ہیں؟، اعترافی بیان دینے کے لیے قانونی طریقہ موجود ہے۔ ملزم نے کہا کہ میں یہ بیان پولیس کے سامنے بھی دے چکا ہوں۔ ملزم کی بیوی سحر نے بیان میں کہا کہ علی حسن نے اس سے پستول مانگا جو اس نے دے دیا لیکن اسے نہیں پتا تھا کہ ملزم نے پستول کس مقصد کے لیے لیا ہے۔پولیس نے عدالت کو بتایا کہ علی حسن نے پہلی عنبرین فاطمہ کو قتل کرکے ڈکیتی مزاحمت کا رنگ دے دیا، واردات میں استعمال ہونے والا پستول ابھی برآمد کرنا ہے۔ عدالت نے تینوں ملزمان کو 28 دسمبر تک 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔واضح رہے کہ کراچی کے علاقے سولجربازار میں 9 دسمبر کو عنبرین فاطمہ کو اس وقت قتل کیا گیا تھا جب وہ اپنے شوہرعلی حسن کے ہمراہ کار میں جارہی تھی جبکہ ملزم نے واردات کو ڈکیتی کا رنگ دیا تھا۔ سولجر بازار میں فائرنگ سے قتل ہونے والی اسکول پرنسپل کے شوہر علی حسن نے عدالت میں اقبال جرم کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے سولجر بازار میں قتل ہونے والی اسکول پرنسپل عنبرین فاطمہ کے کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔  پولیس نے سٹی کورٹ میں شوہر علی حسن، دوسری بیوی سحر اور سالے بالاج کو عدالت میں پیش کیا۔ مقتولہ کے شوہر علی حسن نے عدالت میں بیوی کے قتل کا اعتراف کرلیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…