جمعہ‬‮ ، 13 فروری‬‮ 2026 

قومی ایئرلائن پی آئی اے مکمل طورپر ڈوب گئی،بدترین خسارے کا سامنا،ہر سال کتنے ارب روپے سود اداکیاجارہاہے؟ افسوسناک انکشافات

datetime 23  دسمبر‬‮  2017 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) پی آئی اے انتظامیہ کی بدنظمی اور ناقص حکمت عملی کی وجہ سے مالیاتی خسارے کی اڑان آسمان کی جانب ہے، سال 2017 بھی قومی ایئرلائن کیلئے بدترین خسارے کے ساتھ مشکلات کا شکار رہا، مجموعی خسارہ400ارب روپے سے زائد تجاوز کرگیا جبکہ قرضوں کا حجم بھی 205ارب روپے تک جاپہنچا ہے۔تفصیلات کے مطابق سال2017بھی پی آئی اے کے لئے اچھا ثابت نہیں ہوا، پی آئی اے میں بدعنوانی بھی اپنے عروج پر ہے،

ناتجربہ کار افسران نے بھی ادارے کے لئے نقصان کا باعث بن رہے ہیں۔پی آئی اے مجموعی طور پر400ارب روپے سے زائد خسارے سے دوچار ہے، ہر سال 40ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچ رہا ہے، سال 2017میں بھی پی آئی اے کا سالانہ خسارہ بھی40سے45ارب روپے تک جا پہنچا ہے، پی آئی اے ہر سال 15ارب روپے سود کے ادا کر رہی ہے۔مالی بحران کی وجہ سے ملازمین کو تنخواہیں بھی تاخیر سے ادا کی جارہی ہے۔اس ضم میں قومی ایئرلائن قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ پی ایس او کے 15ارب روپے سے زائد واجبات جبکہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے 23ارب روپے سے زائد واجبات ہیں اور بین الاقوامی ایئرپورٹ کے چارجز بھی پی آئی اے پر بڑا بوجھ ہے۔پی آئی اے وزیراعظم کے احکامات کے باوجود2017میں اپنا بزنس پلان تیار کرنے میں بری طرح ناکام رہی، ناتجربہ کار افسران بزنس پلان تک بھی تیار نہ کرسکے، جس کی وجہ سے پی آئی اے کا مالی بحران شدت اختیار کرگیا ہے، طیاروں کے پرزہ جات خریدنے کیلئے 30ارب روپے سے زائد کی رقم درکار ہے ہنگامی بنیادوں پر رقم فراہم نہ کی گئی تو طیاروں کی مینٹیننس بھی متاثر ہوگی۔ ویتنام سے پی آئی اے کے لیے ویٹ لیز پر حاصل کئے گئے چار ایئربس 320طیارے جنوری 2018واپس ہونا شروع ہوجائیں گے، بزنس پلان تیار نہ ہونے کی وجہ سے پی آئی اے دوسرے طیارے لیزپر حاصل نہیں کرسکا، جس کی وجہ سے گلف جانیوالی پروازوں کا شیڈول کے

ساتھ ساتھ اندرون اور بیرون ملک جانیوالی پروازیں بھی بری طرح متاثر ہورہی ہیں۔ناقص حکمت عملی کے باعث قرضوں کی واپسی کے بجائے سود کی ادائیگی قومی ایئرلائن پر سب سے بڑا بوجھ ہے، پی آئی اے کے مسافروں کو عدم سہولیات پالیسی میں فضائی مہمانوں کو دور کردیا ہے۔قومی فضائی کمپنی کو بہتر بنانے اور اس کو اپنے پاوں پر کھڑا کرنے کے حکومتی دعوے اس سال بھی دعوے ہی رہے، امید کی جاسکتی ہے کہ نیا سال اس کے لئے اچھا ثابت ہوگا۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…