جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

خانپور میں بارات پر ڈالر ، ریال اور موبائل فون کی بارش کرنے والے کون تھے؟کس چیز کا کاروبارکرتے ہیں،تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 21  دسمبر‬‮  2017 |

خانپور(مانیٹرنگ ڈیسک) خانپور میں برات پر ڈالر ، ریال اور موبائل فون کی بارش کرنے والے پرچون فروش نکلے جو نئی و پرانی بوریاں سینے اور بیچنے کا کاروبار کرتے ہیں،ایف بی آر نے واقعے کا نوٹس لے کر تحقیقات شروع کردیں۔تفصیلات کے مطابق خانپور میں بارات

میں ڈالر ، موبائل فون اور ریال لٹانے والے پرچون فروش نکلے اور نئی و پرانی بوریاں سینے اور بیچنے کا کاروبار کرتے ہیں۔ دریا دلی کرنے والے ارشد قریشی کا تعلق قریشی خاندان سے ہے، دولہا کے چچا کا کہنا ہے کہ براتیوں پر پیسہ لٹانا قریشوں کی روایت ہے جب کہ دولہا کے بھائی کا کہنا ہے کہ وہ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ بارات میں ایک ڈالر کے پانچ سو نوٹ اور ایک ریال کے بھی پانچ سو نوٹ پھینکے گئے، جبکہ دو ہزار والے ڈبہ پیک موبائل فون بھی لٹائے گئے۔دوسری جانب فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے رحیم یار خان میں شادی کی تقریب کے دوران باراتیوں کی جانب سے ڈالر ‘ ریال اڑائے جانے کا نوٹس لیتے ہوئے دولہے اور دلہن کے اہل خانہ کے مالی وسائل سے متعلق تحقیقات شروع کر دیں۔ ایف بی آر ذرائع کے مطابق باراتیوں کے امریکی ڈالرز، سعودی ریال اور موبائل فونز لْٹانے پر نوٹس لیا گیا۔ ایف بی آر نے دلہا اور دلہن کے مالی وسائل سے متعلق تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ایف بی آر ذرائع نے بتایا کہ دلہا دلہن اور ان کے اہل خانہ کے مالی وسائل کا جائزہ لے کر اس سے متعلق تحقیقات کی جائیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…