جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانی حکام سے خفیہ ملاقاتیں،بھارتی سیاست میں نیا ہنگامہ کھڑا ہوگیا،اہم ترین سیاستدانوں کے ایک دوسرے پر سنگین الزامات

datetime 12  دسمبر‬‮  2017 |

نئی دہلی(آئی این پی ) سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے ریاستی انتخابات میں کانگریس کو کامیاب کرانے کے لیے پاکستانی مداخلت کے الزامات کو احمقانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گجرات کے ریاستی انتخابات میں ممکنہ ہار دیکھ کر مودی بوکھلا گئے ہیں ، نریندرا مودی سیاسی فائدے کے لئے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں،مودی پاکستانی حکام سے خفیہ ملاقات

کے جھوٹے الزام پر معافی مانگیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے نریندرا مودی کو خط لکھا ہے جس میں انہوں نے پاکستانی ہائی کمشنر سے خفیہ ملاقات کے حوالے سے الزامات پر برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ نریندرا مودی کی جانب سے خفیہ ملاقات کے بے بنیاد الزامات ان کے لیے تکلیف کا باعث بنے ہیں، درحقیقت گجرات کے ریاستی انتخابات میں ممکنہ ہار دیکھ کر مودی بوکھلا گئے ہیں اور سیاسی فائدے کیلئے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں، انہوں نے سابق وزیر اعظم اور فوج کے سربراہ سمیت آئینی اداروں کو بدنام کرنے کی ایک خطرناک روایت کا آغاز کردیا ہے۔سابق بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ کانگریس کو قوم پرستی سے متعلق کسی وعظ کی ضرورت نہیں، عوام کانگریس اور ان کی خدمات کو بخوبی جانتے ہیں، مجھے وزیراعظم مودی کی طرف سے محض سیاسی فائدے کیلئے احمقانہ الزام تراشی دراصل گجرات کے انتخابات میں واضح شکست کی بوکھلاہٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ نریندرا مودی اپنے عہدے کا وقار بحال کرنے کے لیے معافی ضرور مانگیں گے۔واضح رہے کہ نریندرا مودی نے چند روز قبل گجرات میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ پاکستان ریاستی انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کوشش میں کانگریس پارٹی بھی اس کے ساتھ ہے۔ اس سلسلے میں من موہن سنگھ اور بھارت کے سابق نائب صدر حامد انصاری نے پاکستانی حکام سے خفیہ ملاقاتیں بھی کی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…