جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

پی ایم ہاؤس کی سکیورٹی پرماموراہلکا ر خیراتی کھانا کھانے پر مجبور ،عباسی خاندان کے چشم و چراغ نے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد عزت سادات مٹی میں ملا دی

datetime 12  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(آن لائن) پی ایم ہاؤس کی سکیورٹی پر معمور فورس خیراتی کھانا کھانے پر مجبور ، اپنے شوق سے ایف سیون ٹو واقع ذاتی رہائش گاہ کو وزیراعظم ہاؤس کا درجہ دلانے والے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی طرف سے گلی میں لگنے والی دو اضافی پکٹوں پر معمور د درجن سے زائد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک برتے جانے کے عمل کا انکشاف ہوا ہے ۔

وزیراعظم کے پڑوس اور معروف فارما سیوٹیکل کمپنی ولسن کے مالک کی طرف سے ملنے والے خیراتی کھانوں پر اکتفا کرنے پر مجبور ہیں وزیراعظم ہاؤس کے مکین جن کی سکیورٹی کیلئے اضافی نفرت تعینات کی گئی ہے کی طرف سے تاحال سادہ پانی کا گلاس تک سکیورٹی اہلکاروں کو نہیں پوچھا گیا۔ آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے ایف سیون ٹو میں وزیراعظم ہاؤس کی سکیورٹی کیلئے موجود قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار نے بتایا کہ نااہل وزیراعظم سرکاری رہائش گاہ استعمال کرتے تھے تو ان کی سکیورٹی کیلئے موجود عملے کیلئے تین وقت کے کھانے کا خصوصی اہتمام موجود ہوتا تھا عباسی خاندان کے چشم و چراغ نے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد عزت سادات مٹی میں ملا دی دو ماہ ہونے کو آئے آج تک وزیراعظم یا ان کے کسی ذمہ دار کی طرف سے اپنی سکیورٹی کیلئے فراہم کی گئی دو درجن سے زائد سکیورٹی ٹیم کو ایک وقت کے کھانے کا بھی نہیں پوچھا وزیراعظم ہاؤس کے متصل رہائش پذیر معروف فارما سیوٹیکل کمپنی ولسن کے مالک کی طرف سے آتے جاتے کھڑے گارڈ پر ترس کھاتے ہوئے تین ٹائم کی پیٹ کی آگ بجھانے کیلئے خیراتی کھانے کی فراہمی کی جارہی ہے آشکبار آنکھوں سے نظریں چراتے ہوئے سکیورٹی اہلکار

نے آن لائن کو بتایا کہ ان کا تعلق خود سادات خاندان سے ہے جس پر صدقہ خیرات کھانا جائز نہیں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی ہٹ دھرمی کے سبب وہ مجبوری خیراتی کھانا کھانے پر مجبور ہیں کیونکہ وزیراعظم ہاؤس کے سکیورٹی جیسی اہم ذمہ داری وہ کھانے کے وقفے کے نام کسی دوسرے کے کندھوں پر نہیں ڈال سکتے ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…