پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت صوبوں کی معاشی خودمختاری کے لئے مزیدآئینی ترامیم لائے گی،اسحاق ڈار

datetime 17  اپریل‬‮  2015 |

واشنگٹن(نیوزڈیسک) وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے ملکی وسائل کی صوبوں کے درمیان منصفانہ تقسیم کے بعد، ’صوبائی حکومتیں اس قابل ہیں کہ وہ اپنے طور پر معاشی بہتری کے لئے کام کر سکیں‘۔انھوں نے کہا ہے کہ حکومت ایسی آئینی ترامیم لانے کا منصوبہ رکھتی ہے جس کے بعد آنے والی حکومتیں معاشی اصلاحات کے تسلسل میں رکاوٹ پیدا نہ کر سکیں۔ واشنگٹن کی تھینک ٹینک، ’کارنیگی انڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس‘ میں جمعرات کی صبح شرکا سے خطاب میں، اسحاق ڈار کہنا تھا کہ حکومت نے معاشی اصلاحات کے لئے عالمی بینک کے تمام 12 درجات عبور کر لئے ہیں، جس کے نتیجے میں، پاکستانی معشیت میں استحکام آیا ہے اور قومی خزانے میں 17 ارب ڈالر موجود ہیں، جو آئندہ چند ماہ میں 18 ارب ڈالر کی حد عبور کرلے گا۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے تین روزہ سمر اجلاس میں شرکت کے لئے واشنگٹن پہنچے ہیں، جہاں وہ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور امریکی حکام کے علاوہ دوست ممالک کے وزراءخزانہ سے بھی ملاقات کریں گے، اور انھیں پاکستان کی معاشی صورتحال پر بریفنگ دیں گے۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ گذشتہ برس جون تک پاکستان کی معاشی صورتحال تسلی بخش نہ تھی۔ لیکن، حکومت نے اصلاحات کے حوالے سے بعض غیر مقبول فیصلے بھی کئے، جس کا نتیجہ ہی ہے کہ آج پاکستانی کرنسی مستحکم ہے،

مزید پڑھئے:کیلی فورنیا کا 95 سالہ شخص دنیا کا معمر ترین پائلٹ بن گیا

شرح نمو چار اعشاریہ چھ ہو چکی ہے، جبکہ آئندہ برس مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح پانچ فیصد تک کی توقع ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کی معشیت کا 21 فیصد زراعت سے وابستہ ہے۔ لیکن، اس شعبے سے حکومت کو صرف ایک ارب ڈالر کی آمدن ہوتی ہے۔ تاہم، حکومت کی ٹیکس اصلاحات کے نتیجے میں ریونیو کلکشن میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔وزیر خزانہ نے ایک سوال پر کہا کہ چین کے ساتھ ’اکنامک کوریڈور‘ کی تکمیل سے صرف پاکستان یا چین نہیں، ’بلکہ پورے خطے کی معاشی صورتحال میں انقلاب برپا ہوگا‘۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…