پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت توانائی کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لئے کوشاں ہے، پرویز رشید

datetime 16  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے اسلام آباد میں متبادل توانائی سے چلنے والے موٹر سائیکلوں گاڑیوںاور برقی آلات کی نمائش کا دور ہ کیا اس موقع پر انہوں نے جولٹا ٹیکنالوجیز کی تیار کردہ بیٹری سے چلنے والی موٹر سائیکل کا معائنہ کیا اورگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت توانائی کے مسئلے کو مستقل بنیادوںپر حل کرنے کے لئے کوشاں ہے اور متبادل توانائی کے زرائع کو ترقی دینے کےلئے اربوں روپے کی لاگت سے کئی منصوبوںپر اس وقت کام جاری ہے۔ انہوں نے متبادل توانائی سے چلنے والے موٹر سائیکل اور گاڑیوں کی ٹیکنالوجی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس ٹیکنالوجی سے شہریوںکو انتہائی سستے داموں سفری سہولیات حاصل ہوں گی اور پیٹرول کے استعمال میں بھی کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ متبادل توانائی کا حصول وقت کی اہم ضرورت ہے جس سے پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں روزانہ اخراجات میں بچت ہو گی۔ سینئر مارکیٹنگ ایگزیکٹو عمران مجیدگورائیہ نے اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کو بریفننگ دیتے ہوئے بتایاکہ جولٹا ٹیکنالوجیز نے پاکستان میں پہلی مرتبہ ایسی موٹر سائیکل متعارف کرائی ہے جو عوام میں بے حد مقبول ہو رہی ہے یہ موٹر سائیکل ایک بار چارکنگ سے 80 کلو میٹر کا فاصلہ طے کرتی ہے۔ موٹرسائیکل سیلف سٹارٹ ہے اس کا کوئی گیئر نہیں نہ ہی کوئی سائلنسر پائپ ہے۔ جولٹا ٹیکنالوجیز کے انجینئرز کا یہ بھی کمال ہے کہ اس کی بنائی ہوئی موٹر سائکلیں اور گاڑیاںبے آواز اور چلانے میں انتہائی آسان ہونے کے ساتھ ساتھ باکفایت اور ماحول دوست بھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ چار سے پانچ یونٹ بجلی کا خرچ بیٹری پر آتا ہے جو پیٹرول کے مقابلے میں انتہائی کم خرچ ہے۔ جولٹا ٹیکنالوجی کی تیار کردہ موٹر سائیکل میں انجن نہیں ہے جس کی وجہ سے ورکشاپ جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ایک سال گارنٹی کےساتھ مینٹننس فری کی بھی سہولت حاصل کر سکتے ہے جس سے ملک میںایک نئے دور کا آغاز ہو گا اورپاکستان کو اس زمرے میں نہ صرف توانائی کے بحران سے نکلنے میں مدد ملے گی بلکہ جولٹا کمپنی کی مصنوعات کو دنیا میں متعارف کروا کے ملک کو کثیر مقدار میں زرمبادلہ بھی حاصل ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…