جمعہ‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2026 

پاکستان کو اسامہ کی موجودگی کا علم تھا اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی ثبوت ہیں،کیمرون منٹر

datetime 16  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان کے لئے امریکا کے سابق سفیر کیمرون منٹر کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اسامہ بن لادن کی موجودگی کا ‘شاید’ علم نہیں تھا اور اس حوالے کوئی ثبوت بھی موجود نہیں ہیں۔یہاں یو سی ایل اے لسکن اسکول برائے پبلک افیئرز میں پاکستان اورامریکا کے تعلقات پر بات چیت کرتے ہوئے سابق امریکی سفیر نے سال 2011ء کے بارے میں کہا کہ ‘پاکستان میں امریکی سفیر کی حیثیت سے یہ ایک ہولناک سال ثابت ہوا’۔انھوں نے کہا کہ پاکستان میں مختلف واقعات اس وقت رونما ہوئے جب ریچرڈ ہالبروک کے پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں بہتری کے لائحہ عمل پر کام کیا جارہا تھا۔سابق امریکی سفیر نے کہا کہ رایمنڈ ڈیوس کی رہائی کے فوری بعد پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کیا جانے والا ڈرون حملے کا وقت انتہائی نا مناسب تھا۔انھوں نے کہا کہ جب دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر ‘تعلقات کے متاثر’ ہونے کی وجوہات کی نشان دہی کی جارہی تھی تو اس دوران ایبٹ آباد کا واقع پیش آگیا۔سابق امریکی سفیر نے کہا کہ شاید پاکستان اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد کے کمپانڈ میں موجودگی کے حوالے سے بے خبر تھا۔انھوں نے کہا کہ مذکورہ آپریشن نے ایک بار پھر دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور بہتر تعلقات کو مشکل بنا دیا تھا۔سابق امریکی سفیر نے کہا کہ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آچکی ہے۔انھوں نے کہا کہ افغانستان پالیسیز کو پاکستان کی نظر سے دیکھنا ایک مشکل عمل ہے۔کیمرون نے کہا کہ صرف 5 فیصد پاکستانی امریکا کو پسندیدہ ملک قرار دیتے ہیں جو دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے کم ہے جبکہ حالیہ ہونے والے ایک سروے کے مطابق 90 فیصد لوگ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری دیکھنا چاہتے ہیں۔واضح رہے کہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کے حوالے سے امریکا کی جانب سے کیا جانے والا آپریشن پاکستان میں سی آئی اے کے ایک کنٹریکٹر رائمنڈ ڈیوس کی رہائی کے چھ ہفتوں بعد پیش آیا تھا.اس پر الزام تھا کہ اس نے دو پاکستانی نوجوانوں کو فائرنگ کرکے قتل کیا ہے اور اس کی رہائی ورثہ کو رقم کی ادائیگی کے بعد عمل میں آئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…