بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

سلمان بٹ دوبارہ پاکستان کی نمائندگی کے خواہش مند

datetime 14  اپریل‬‮  2015 |

 

اسلام آباد(نیوزڈیسک )پاکستان کے سابق کپتان اور اسپاٹ فکسنگ کے باعث پابندی کے شکار سلمان بٹ نے ایک بار پھر گرین شرٹس کی نمائندگی کی خواہش ظاہر کی ہے۔2010ءمیں انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ میں رقم کے عوض جان بوجھ کر نو بال کروانے پر اس وقت کے قومی ٹیم کپتان سلمان بٹ، محمد عامر اور محمد ا?صف پر پابندی عائد کی گئی تھی۔سلمان بٹ کو دس، آصف کو سات جبکہ عامر کو پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی، تینوں کھلاڑیوں نے برطانیہ میں جیل میں بھی وقت گزارا۔تاہم سلمان بٹ اپنے اس کیے پر شرمندہ ہیں اور وہ کرکٹ میں ایک بار پھر پاکستان کی نمائندگی کرنے کے خواہش مند ہیں۔انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ جو کچھ ہوا وہ نئی نسل میں منتقل نہیں ہونا چاہیے اور ‘ہمیں انہیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ زندگی میں شارٹ کٹ اور ایسے لوگوں سے بچیں جو آپ کو غلط کام کے لیے اکسانے کی کوشش کریں’۔انہوں نے کہا کہ ‘ہم کسی ایک شخص کو ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے، یہ نہیں کہہ سکتے کہ سب کچھ ایک ہی شخص نے کیا، جو کوئی بھی اس میں ملوث تھا وہ غلط تھا، ہم سب انسان ہیں اور ہم سب غلطی کرتے ہیں’۔یاد رہے کہ اسپاٹ فکسنگ میں سب سے پہلے محمد عامر نے جرم کا اعتراف کیا جبکہ آصف اور سلمان بٹ ایک عرصے تک خود کو بے قصور ثابت کرنے پر مصر تھے۔تاہم آئی سی سی تحقیقات کے بعد آصف اور پھر سلمان بٹ نے بھی جرم کا اعتراف کر لیا۔سلمان بٹ نے کہا کہ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ آپ کو اپنے کیے پر شرمندگی ہو، آپ واپس آئیں، اپنی غلطی تسلیم کریں اور آگے بڑھتے ہوئے اس بات کا ادراک کریں کہ آپ دوسروں کو اس تکلیف سے گزرتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہیں گے جس سے آپ گزر چکے ہیں۔جرم کے اعتراف کے بعد سے عامر ایک عرصے تک آئی سی سی کے انٹی کرپشن یونٹ کے ساتھ کام کرنے کے ساتھ ساتھ تربیت بھی لیتے رہے لیکن آصف اور سلمان بٹ ایسے کسی بھی عمل کا حصہ نہیں رہے۔

یہی وجہ ہے ائی سی سی نے پانچ سالہ پابندی ختم نہ ہونے کے باوجود عامر کو ڈومیسٹک کرکٹ میں واپسی کی اجازت دے دی تھی جہاں وہ گریڈ ٹو کرکٹ کھیل رہے ہیں لیکن ائی سی سی سے عدم تعاون کی وجہ سے انہیں کرکٹ کھیلنے کی پابندی ملنے کا امکان انتہائی معدوم ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…