منگل‬‮ ، 23 جون‬‮ 2026 

چین پاکستان کے ساتھ ملکر کس بڑے اقدام کی تیاری کررہاہے؟کابل میں متعین چینی سفیر کا حیرت انگیز انکشاف

datetime 11  ستمبر‬‮  2017 |

بیجنگ(آئی این پی) بیجنگ حکومت پاکستان، تاجکستان اور افغانستان کے ساتھ مل کر انسداد دہشت گردی کے طریقہ کار کی تیاری میں مصروف ہے، دہشت گردی کی بڑھتی کارروائیاں نہ صرف ان ممالک بلکہ خطے کے لئے باعث تشویش ہیں، کئی طرز کے عسکری تعاون پر غور کر رہے ہیں جیسا کہ مشترک فوجی مشقیں، سرحدوں پر مشترکہ گشت اور شاید مستقبل میں مشترکہ آپریشنز بھی اس میں شامل ہوں،

بیجنگ حکومت افغانستان میں کئی منصوبوں میں سرمایہ کاری بھی کر رہی ہے،چینی حکومت شاہراہ ریشم اقتصادی تعاون کے منصوبے پر کام کر رہی ہے ، افغان علاقوں ایک بہت بڑی تعداد داعش کے حامی چیچین، وسط ایشائی، پاکستانی، عرب اور خود افغان عسکریت پسند فعال ہیں، جو طالبان سے بھی زیادہ سفاک ہیں، ان دہشت گردوں کی بیخ کنی کے لئے باہمی تعاون نا گزیر ہے، چینی میڈیا کے مطابق کابل میں متعین چینی سفیر یاؤ جینگ نے کہا ہے کہ بیجنگ حکومت پاکستان، تاجکستان اور افغانستان کے ساتھ مل کر انسداد دہشت گردی کے طریقہ کار کی تیاری میں مصروف ہے۔ انہوں نے یہ بات ان تینوں ممالک کی مشترکہ سرحد کے قریب واقع شمال مشرقی افغان صوبے بدخشان کے دورے کے موقع پر کہی کہ دہشت گردی کی بڑھتی کارروائیاں نہ صرف ان ممالک بلکہ خطے کے لئے باعث تشویش ہیں۔ کئی طرز کے عسکری تعاون پر غور کر رہے ہیں جیسا کہ مشترکہ فوجی مشقیں، سرحدوں پر مشترکہ گشت اور شاید مستقبل میں مشترکہ آپریشنز بھی اس میں شامل ہوں۔بیجنگ حکومت افغانستان میں کئی منصوبوں میں سرمایہ کاری بھی کر رہی ہے۔چینی حکومت شاہراہ ریشم اقتصادی تعاون کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ افغانستان کے صوبہ بدخشان کی سرحدیں پاکستان کے خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے ساتھ چین کے سنکیانگ اور تاجکستان کے گورنو بدخشان نامی خطوں سے ملتی ہیں۔ افغان علاقوں ایک بہت بڑی تعداد داعش کے حامی چیچین، وسط ایشائی، پاکستانی، عرب اور خود افغان عسکریت پسند فعال ہیں، جو طالبان سے بھی زیادہ سفاک ہیں۔

ان دہشت گردوں کی بیخ کنی کے لئے باہمی تعاون نا گزیر ہے،انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں افغانستان کے کئی ایسے شمالی صوبے بدامنی کے لپیٹ میں آئے ہیں جو گزشتہ کئی برسوں سے خاصے پر امن تھے۔اس بڑھتی بد امنی پر وسطی ایشیائی ممالک ازبکستان، ترکمانستان اور روس نے بھی اپنے خدشات ظاہر کیے ہیں۔

چینی حکومت نے کافی عرصے تک افغان تنازعے کے سیاسی اور جنگی پہلو سے خود کو دور رکھا مگر اب بیجنگ ایک نمایاں اور فعال کردار نبھانے کی جانب بڑھ رہا ہے۔واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے افغان صدر محمد اشرف نے اعلان کیا کہ پاکستان کے ساتھ منقطع سیاسی رابطے دوبارہ بحال کرنے کو تیار ہیں،۔جس کی مدد سے تنازعات کو حل کیا جاسکے گا۔ یاد رہے کہ چین اس چار فریقی رابطہ گروپ کا رکن ہے۔ جس کی مدد سے خطے کے ممالک افغان تنازعے کے پر امن حل کی تلاش کر رہے ہیں۔



کالم



فورنگ میں ایک رات


ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…