اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت کے ’’ریپ گرو‘‘ کے شاہانہ محلات

datetime 8  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت کے گرو گرمیت رام رحیم کے محلات جہاں وہ مغلیہ شہنشاہوں کی سی شان و شوکت سے رہتے تھے۔ وہ آج کل ریپ کے جرم میں جیل میں ہیں۔یاد رہے کہ اس سے پہلے بھار ت میں نام نہاد پیر گرو گرمیت سنگھ کے ہاتھوں ریپ کا نشانہ بننے والی 2خواتین پیروکار نے سی بی آئی ججوں کے سامنے اپنے بیانات میں اہم انکشاف کئے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ریپ کا شکار بننے والی عورتوں نے اپنے بیانات میں انکشاف کیا کہ گرو گرمیت سنگھ نے خواتین کو ریپ کا نشانہ بنانے کیلئے خفیہ

سرنگ میں ایک کمرہ بنا رکھا تھا۔ اس خفیہ سرنگ میں گرمیت سنگھ کا ذاتی کمرہ تھاجہاں کسی اور کو جانے کی اجازت نہ تھی۔ اخبار ”ٹائمز آف انڈیا “کی ایک رپورٹ کے مطابق انہوںنے خواتین پیروکاروں کیجانب سے ریکارڈ کرائے گئے بیانات پر مبنی دستاویزات حاصل کر لی ہیں جن میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ گرمیت سنگھ کے ڈیرہ سچا سودا پر ریپ کیلئے پتا جی کی معافی کی اصطلاح استعمال کی جاتی تھی۔۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خفیہ سرنگ میں موجود گرو گرمیت سنگھ کے کمرے کی نگرانی کیلئے صرف خواتین شاگردوں کو ہی تعینات کیا جاتا تھا اور یہ ریپ کیلئے معافی کا کوڈ ورڈ استعمال کرتی تھیں۔28 فروری 2009کو عصمت دری سے بچنے والی ہریانا کے علاقے یامونا نگر کی رہائشی نے سی بی آئی کے جج اے کے ورما کو بتایا کہ اس نے جولائی 1999سے ڈیرہ میں رہنا شروع کیا اور اس کی وجہ اس کا بھائی تھا جسے مبینہ طور پر اپنی بہن کیلئے انصاف مانگنے پر قتل کر دیا گیا تھا۔اس نے بتایا کہ مجھے اس وقت کچھ بھی سمجھ نہیں آیا جب دیگر شاگردوں نے مجھ سے پوچھنا شروع کیا کہ کیا مجھے پتا جی کی معافی مل گئی ہے، اور جب 28 اور 29 اگست 1999کی درمیانی شب گرو گرمیت نے مجھے ریپ کا نشانہ بنایا تو مجھے علم ہوا کہ وہ کیا بات کرتی تھیں۔بات یہاں تک ہی نہیں بلکہ گرو گرمیت سنگھ نے اپنی کرنسی بھی جاری کی ہوئی تھی۔ جبکہ اس وقت بھی گرو گرمیت کے ایک ہزار ایکڑ پر مشتمل آشرم’’ڈیرہ سچاسودا‘‘میں دو لاکھ سے زائد چیلے موجود ہیں جن میں عورتیں بھی شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…