جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

دنیا کے ایسے جوتے تیار جن کی بوقت ضرورت ہیلز اتاری یا لگائی جا سکیں گی

datetime 4  اپریل‬‮  2015 |

لندن (نیوز ڈیسک) ہیلز والے جوتے خواتین کی اکثریت کو پسند ہوتے ہیں، مگر انہیں پہن کے زیادہ دیر تک چلنے پھرنے کا تصور ہی بے حد تکلیف دہ ہوتا ہے، تاہم اب کینیڈین ڈیزائنر نے منفرد طرز کے جوتے تیار کئے ہیں جن کی ہیلز بوقت ضرورت ایک بٹن دبا کے علیحدہ کی جاسکیں گی۔ تانیا ہیتھ پیرس کے تیار کردہ اس منفرد طرز کے جوتے کا یہ فائدہ بھی ہے کہ ایک ہی جوتے کو موقع کی مناسبت سے ہیلز والا یا بغیر ہیل والا دونوں طرح ہی استعمال کیا جاسکتا ہے۔260پونڈز مالیتکے اس جوتے کی ایڑی کے وسط میں ایک بٹن لگا ہے جسے دبا کے جوتے سے جڑی ہیل کو علیحدہ کیا جاسکتا ہے جبکہ اسے جوتے کے ساتھ جوڑنے کیلئے محض اس کی مخصوص جگہ پر رکھ کے ہلکے سے دبانا ہی کافی ہے۔ اس جوتے کی ٹیگ لائن کو دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کے ہمراہ مختلف انداز کی ڈھیر ساری ہیلز بھی ساتھ ہی دی جائیں گی جنہیں بوقت ضرورت، لباس اور موقع کی مناسبت سے منتخب کیا جاسکے گا۔ ان ہیلز کی مدد سے ڈیڑھ انچ کی اونچائی کے حامل جوتے کو ساڑھے تین انچ تک کی اونچائی کا جوتا بنایا جاسکے گا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس جوتے کو ڈیزائن کرنے تانیہ44 سالہ خاتون اور تین بچوں کی مان ہیں۔ وہ اگرچہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں سہولت کی فراہمی کے حوالے سے گزشتہ بیس برس سے کام کررہی ہیں تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی تربیت حاصل نہیں کی ہے اور محض اپنے تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر وہ اس قابل ہوئی ہیں کہ ایسے جوتے تیار کرسکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ریستوران سے لے کر مارکیٹ تک ہر جگہ ہیل والے جوتے پہن کے جاتی ہیں تاہم درد برداشت کرنا ان کیلئے ناممکن ہوتا تھا۔ حتٰی کہ ایک بار ہائی ہیل پہن کے ڈرائیونگ کی وجہ سے ان کی ایڑی بریک کے نیچے دب گئی تھی جس کی وجہ سے ان کا ایکسیڈنٹ ہوتے ہوتے بچا۔ اس کے بعد سے ہی وہ اس سلسلے میں غور کررہی تھیں۔ آخر کار اڑھائی برس کی شبانہ روز محنت اور 14انجینیئرز کی ذہانت کے امتزاج سے کنورٹیبل جوتے پیش کرنے میں کامیاب ہوگئیں
۔ تانیہ کی خواہش ہے کہ ان کے تیار کردہ جوتے برطانوی شاہی خاندان کی بہو کیٹ میڈلٹن ضرور پہنیں کیونکہ انہوں نے شاہی خاندان کی خواتین کی فیشن کے انداز کو تبدیل کردیا ہے اور اس میں روایت کے ساتھ ساتھ جدت کو نہایت عمدگی سے متعارف کروایا ہے اور تانیہ کے جوتوں کی وجہ سے بھی جدت اور روایت کو ایک ساتھ لے کے چلنا ممکن ہے۔تانیہ کے ان جوتوں کا ورکنگ ویمن کو سب سے زیادہ فائدہ ہوگا جنہیں دفتر کے بعد کسی پارٹی میں جانا مقصود ہو۔ وہ صبح دفتری اوقات کے لئے سادہ ایڑی کے جوتے پہن کے دفتری امور نمٹا سکیں گی اور بعد ازاں شام میں انہی جوتوں میں ایڑی لگا کے انہیں فیشن کے مطابق شکل دے سکیں گی۔ جوتوں کی مکمل جوڑی کو پرس میں رکھنے کے مقابلے میں محض دو ایڑیوں کی جوڑی کو پرس میں جگہ دینا یقینی طور پر زیادہ آسان بھی ہوگا، اسی لئے امکان ہے کہ یہ جوتے جلد ہی دنیا بھر کی نوکری پیشہ خواتین کی اولین پسند بن جائیں گے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…