اتوار‬‮ ، 11 اکتوبر‬‮ 2026 

سیاسی وعسکری اداروں کے نام سے کمپنیاں بنانے پر پابندی عائد

datetime 30  جولائی  2017 |

اسلام آباد(آن لائن) سیاسی وعسکری اداروں کے نام سے کمپنیوں بنانے پر پابندی عائد،صدر، وزیر اعظم، عسکری اداروں،گورنر، وزیراعلیٰ، کابینہ ، سینیٹرز، ایم این ایز، ججز کے ناموں سے کمپنی رجسٹر نہیں کرائی جا سکے گی تفصیلات کے مطابق سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے ملک کی سیاسی جماعتوں کے قائدین کے نام، بحریہ، عسکری، فوجی، کیڈٹ، آرمڈ فورسز یا فورسز، آرمی، نیوی، ائر فورس، شاہین، ملٹری، ڈیفنس کے نام سے نئی کمپنیوں کے قیام پر پابندی عائد کر دی ہے ،

اس کے ساتھ صدر، وزیر اعظم، گورنر، وزیر اعلیٰ، کابینہ ارکان، سینیٹ کے رکن، ممبر نیشنل اسمبلی، پارلیمنٹ، وفاقی حکومت، صوبائی حکومت، کسی غیر ملکی حکومت کے ساتھ تعلق پر مبنی، کسی سیاسی لیڈر سے تعلق ظاہر کرنے سے متعلق نام، کسی کمیشن، کسی اتھارٹی، کوآپریٹو ہاؤسنگ اتھارٹی، ملک میں بننے والے کسی قانون، عدلیہ، جج یا کسی ایڈمنسٹریٹر کے نام سے پاکستان میں کوئی کمپنی رجسٹرنہیں کرائی جاسکے گی۔ ایس ای سی پی نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ، سارک، او آئی سی، ورلڈ بینک، انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن، ایشین ڈویلپمنٹ بینک، انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ، ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ کے نام سے یا ان سے ملتے جلتے نام یا ان کے رجسٹرڈ نشانات کو بھی پاکستان میں نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں استعمال میں نہیں لایا جاسکے گا، اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں قائم ہونے والی نئی کمپنیوں کے حقیقی مالکان اور ان کے غیر ملکی شراکت داروں کی شناخت کیلئے کمپنیز ان کارپوریشن ریگولیشن 2017 جاری کر دیا گیا ہے۔ جس میں کمپنیوں کے قیام کی شرائط کو سخت کر دیا گیا ہے اور شرائط میں اضافہ کر دیا گیا ہے ، ان شرائط میں نئی کمپنیاں قائم کرنے والوں کو میمورنڈم آف ایسوسی ایشن، جہاں ضروری ہے وہاں آرٹیکل آف ایسوسی ایشن، کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور دیگر پارٹنرز کے قومی شناختی کارڈز اور اوورسیز پاکستانیز ہونے کی

صورت میں ان کا خصوصی شناختی کارڈ، غیر ملکی ہونے کی صورت میں ان کے پاسپورٹ کی نقول، سنگل ممبر کمپنی ہونے کی صورت میں بھی شناختی کارڈ یا غیر ملکی ہونے کی صورت میں پاسپورٹ کی نقول، گواہان کے شناختی کارڈ کی نقول، کسی ادارے یا ایجنٹ کو کمپنی کے قیام سے متعلق دستاویزات داخل کرائے جانے کی صورت میں ایک بیان حلفی، اسپیشلائزڈ کمپنی ہونے کی صورت میں متعلقہ ریگولیٹری اتھارٹی کا این او سی یا اتھارٹی لیٹر اپنے بینک اکاؤنٹ سے براہ راست آن لائن منتقل کرائی گئی فیس کے چالان کی نقل پیش کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ نئے ریگولیشن میں غیر ملکی کمپنی کی رجسٹریشن کی صورت میں کمپنی کے مالکان یا چیف ایگزیکٹو کیلئے اضافی معلومات فراہم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے جن میں کمپنی کی پروفائل، کمپنی کے ڈائریکٹرز کی مکمل تفصیلات، ان کی قومیت کی تفصیلات فراہم کرنا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…