منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

جسم کی زائد چربی ختم کرنے کا انتہائی آسان نسخہ

datetime 21  جولائی  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ موٹاپا بھگانے کے لیے لیمن گراس ٹی نہایت اہمیت کی حامل ہے، جس کے استعمال سے فوائد زیادہ اور کم وقت میں حاصل کیے جاسکتے ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ

لیمن گراس ٹی کے استعمال کا کوئی نقصان نہیں ہوتا ہے، نہار منہ اس مزیدار مشروب کو پی کر نئے دن کا آغاز کریں اور چاق و چابند نظر آئیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ لیمن گراس ٹی کولیسٹرول اور جسم کی فالتو چربی کا دشمن ہے، یہ موٹاپا بھگانے میں مدد دیتی ہے۔ اس کا سستا پودا گھر میں بھی لگایا جاسکتا ہے۔ لیمن گراس کا پودا مچھر بھی دور بھگاتا ہے۔اسے ہائی بلڈ پریشر کو کم کرنے کیلئے بھی استعمال کیاجاتا ہے۔ کیل مہاسوں کو کم کرنے میں ایک ریفریشر کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس کے جوس سے دوران خون حیض کے مسائل سے نمٹنے میں مدد ملتی ہے۔ جسم میں ضرورت سے زیادہ چربی سے نمٹنے میں مدد ملتی ہے ،جسم کی بدبو مختلف بیماریوں کے علاج میں مدد کر سکتے ہیں اورگرمی کو کم کرنے میں مفید ہے۔ ہمارے جسم کے دیگر اعضا کو صاف اور زہریلا مادہ کو ختم کر سکتے ہیں۔ خواتین کی صحت جلد اور جسم کی بدبو جیسی بیماریوں کے علاج میں مدد ملتی ہے،چہرے کے کیل مہاسے ختم ہوجاتے ہیں چہرہ خوبصورت شاداب ہوجا تا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…