پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

بچوں کی حفاظتی ویکسینیشن کو نجی شعبے میں دینے کا فیصلہ

datetime 29  مارچ‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک)حکومت سندھ نے مرحلہ وار محکمہ صحت کو نجی شعبے میں دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
محکمے کے جاری مختلف صحت پروگراموں کو بتدریج غیر سرکاری تنظیموں کے حوالے کرنے کا عمل شروع کردیا گیا ہے،عالمی اداروں کی جانب سے انسداد پولیو مہم پر تحفظات کے نتیجے میں صوبائی حکومت نے ابتدائی طور پر سندھ کے 2 اضلاع میں توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات ( ای پی ائی) بھی من پسند نجی ادارے کودیے جانے کی منظوری دیدی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت سندھ نے بچوں کے حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام (ای پی ا ئی)کو نجی شعبے میں دینے کے لیے پہلے ہی سندھ کے2 اضلاع دادو اور بدین کے بچوں کو پولیو سمیت دیگر حفاظتی ٹیکہ جات لگانے اور ویکسین پلانے کے لیے پیپلز پرائمری ہیلتھ اینشیٹو (پی پی ایچ ا ئی)کودینے کاعندیہ دیا ہے۔واضح رہے کہ حکومت سندھ نے اندرون سندھ کے بنیادی صحت کے مراکزکو پی پی ایچ ائی کے حوالے کررکھا ہے ، محکمہ صحت کے افسران کے مطابق غیر سرکاری تنظیم پی پی ایچ ائی کوحکومت نے اندرون سندھ کے 1137صحت مراکز حوالے کردیے ہیں جس کا بجٹ بھی حکومت سندھ براہ راست پی پی ایچ ائی کو فراہم کرتی ہے۔ان مراکز میں9 رورل ہیلتھ سینٹر، 647 صحت کے بنیادی مراکز،34میٹرنٹی ہوم اور435 ڈسپنسریاں شامل ہیں، محکمہ صحت کے اندرون سندھ 1599 صحت مراکز تھے،ای پی ا?ئی افسران اور ملازمین کاکہنا ہے کہ اگر ای پی ا?ئی کی نجکاری کی گئی توملازمین شدید احتجاج کریں گے، سندھ میں 1979 میں ای پی ا?ئی پروگرام شروع کیا گیا جس کے تحت بچوں کو حفاظتی ٹیکے اور وائرس سے بچاو? کی خوراک پلائی جاتی ہے لیکن اب حکومت نے اس پروگرام کو نجی شعبے میں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق تمام اسپتالوں کو صوبائی خودمختاری کے تحت چلائے جانے کی سمری تیاری کی جاچکی ہے، حکومت نے محکمہ صحت کے مختلف شعبوں اور پروگرامزکی مرحلہ وار نجکاری کا عمل شروع کر دیا ہے،ذرائع کے مطابق ملک میں پولیو کیسز میں اضافے اور سندھ میں انسداد پولیو مہمات کی خراب کوریج پر عالمی اداروں نے تحفظات کا اظہارکیا تھاجس کے پیش نظر حکومت سندھ نے حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کی بھی بتدریج نجی شعبے کے حوالے کرنا شروع کر دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…