بدھ‬‮ ، 03 جون‬‮ 2026 

جان کیری نے شاہ محمود کے بیٹے کی کس طرح مدد کی؟ لیکن جب ریمنڈڈیوس کی رہائی کیلئے امریکہ نے ان سے رابطہ کیا تو انہوں نے کیا سرپرائز دیا؟

datetime 1  جولائی  2017 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)اپنی کتاب میں شاہ محمود قریشی کے حوالے سے ریمنڈ ڈیوس نے لکھا ہے کہ پاکستانی حکام نامعلوم امریکی حکام کی پاکستان میں بڑھتی موجودگی پر مشتعل تھے اور وہ میری ناخوشگوار صورتحال کو امریکا کیلئے باعث ہزیمت بنانا چاہتے تھے۔اْن حکام میں سے ایک کیمبرج یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی تھے

جنہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے مجھے سفارتی استثنیٰ دینے کیلئے دباؤ ڈالنے پر 30 جنوری کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔ اپنے وکلاء کی معاونت کے ساتھ، شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میں سفارتخانے کیلئے نہیں بلکہ قونصل خانے کیلئے کام کرتا ہوں اور وہ نہیں چھوڑیں گے۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے 1961 اور 1963کا ویانا کنونشن پڑھا ہے اور جس طرح کی معافی امریکا میرے لئے مانگ رہا ہے وہ جائز نہیں۔ ریمنڈ ڈیوس لکھتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ اضافی شراکت داری کے قانون پر صدر بارک اوباما کی جانب سے دستخط کیے جانے سے تین دن قبل، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی واشنگٹن پہنچے تاکہ پاک فوج کے تحفظات سے آگاہ کر سکیں۔امریکی وزیر خارجہ جان کیری ہمیشہ سے ہی شاہ محمود قریشی کے ساتھ کام کرتے ہوئے اطمینان محسوس کرتے تھے۔ وہ اکثر قریشی کو دوست کہتے اور انہوں نے قریشی کے بیٹے زین کو اپنے پاس سینیٹ آفس میں انٹرشپ پر مقرر کیا تھا۔

لیکن جب جان کیری مجھے لاہور جیل سے چھڑانے کیلئے معاہدہ کرانے کی خاطر 15 فروری 2011کو پاکستان پہنچے تو قریشی نے وہ رویہ اختیار کیا جو ایک دوست جیسا نہیں تھا۔مجھے سفارتی استثنیٰ دینے کیلئے حکومت کی بات ماننے کی بجائے انہوں نے مزنگ چونگی پر پیش آئے واقعے کے تین دن بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا اور دو ہفتوں بعد بھی وہ اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے۔ اعلیٰ پاکستانی عہدیداروں کے ایک اجلاس میں، زرداری اور گیلانی نے قریشی کو منانے کی کوشش کی کہ وہ اپنا سخت موقف چھوڑ دیں لیکن قریشی نے اگلے ہی دن پریس کانفرنس میں بتایا کہ وہ اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا کہ امریکا کے آگے نہ جھْکیں اور یہ وقت کی ضرورت ہے کہ ہم سر اْٹھا کے جیئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…