جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب کی حدود میں اضافہ،دو اہم جزیروں کی شمولیت کی توثیق کردی گئی

datetime 25  جون‬‮  2017 |

قاہرہ(آئی این پی )مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے بحیرہ احمر میں واقع دو بے آباد جزیرے سعودی عرب کے حوالے کرنے اور نئی سمندری حدود کی حد بندی سے متعلق معاہدے کی توثیق کردی ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے بحیرہ احمر میں واقع دو بے آباد جزیرے سعودی عرب کے حوالے کرنے اور نئی سمندری حدود کی حد بندی سے متعلق معاہدے کی توثیق کردی ہے۔

مصری پارلیمان نے گذشتہ بدھ کو سعودی عرب کے ساتھ نئی بحری حدود کی حدبندی کی منظوری دی تھی۔اس کے تحت بحیرہ احمر میں واقع دو جزیرے تیران اور صنافیر کو سعودی عرب کے حوالے کردیا گیا ہے۔مصر ی پارلیمان کے اسپیکر علی عبدالعال نے رائے شماری کے بعد معاہدے کی منظوری کا اعلان کیا تھا۔پارلیمان میں مصری حکومت نے یہ مقف اختیار کیا تھا کہ تزویراتی اہمیت کی حامل آبی گذرگاہ خلیج عقبہ کے جنوبی داخلی راستے پر واقع یہ دونوں جزیرے سعودی عرب کے ملکیتی تھے۔اس نے 1950 میں مصر سے ان جزیروں کے تحفظ کے لیے کہا تھا اور ان پر تب سے مصر کا کنٹرول چلا آرہا تھا۔مصر اور سعودی عرب کے درمیان اپریل 2016میں طے شدہ معاہدے کے تحت اب یہ جزیرے سعودی عرب کے ملکیتی ہیں اور ان کی از سرنو حدبندی کی گئی ہے۔یادرہے کہ مصر نے 1967میں آبنائے تیران کو بند کردیا تھا۔اس کے ردعمل میں اسرائیل نے مشرق وسطی میں جنگ چھیڑ دی تھی اور ان دونوں جزیروں پر قبضہ کر لیا تھا۔بعد میں جب 1979 میں مصر کا اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ طے پایا تھا تو اس نے ان جزیروں کا کنٹرول مصر کے حوالے کردیا تھا۔مصر نے عقبہ اور ایلات کے درمیان آزادانہ جہازرانی کے حق کے احترام کا وعدہ کیا تھا۔اب سعودی عرب نے بھی یہی وعدہ کیا ہے کہ وہ ان دونوں جزیروں پر کنٹرول کے بعد بحری جہازوں کی آزادانہ آمد ورفت میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے ان دونوں جزیروں کو سعودی عرب کے حوالے کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا تھا اور کہا تھا کہ مصر نے سعودی عرب کو اس کا حق لوٹایا ہے اور وہ اپنے کسی علاقے سے دستبردار نہیں ہوا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…