جمعہ‬‮ ، 26 جون‬‮ 2026 

سمارٹ فونز کی ایجاد نے نوجوانوں کی زندگی قابل رحم بنا دی

datetime 28  مارچ‬‮  2015 |

ایسیکس (نیوزو ڈیسک) سمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کے ذریعے رابطے میں رہنے کو جس طرح گلیمرائز کیا جاتا ہے، حقیقت اس سے بالکل مختلف اور خوفناک ہے۔ اس امر کا انکشاف چینل فور سے نشر ہونے والی ڈاکیومینٹری کی سیریز ”ٹینز“ میں کیا گیا ہے۔ اس سیریز کی تاحال ابھی پہلی قسط ہی نشر ہوئی ہے تاہم اس میں نوجوانوں کے المیئے سے جس انداز میں پردہ اٹھایا گیا ہے، اسے دیکھتے ہوئے امید کی جارہی ہے کہ یہ چینل کی ریٹنگ کو بھی بڑھائے گی اور سماج کو اس المیئے کا بھی احساس دلائے گی جس کا شکار نوجوان نسل ہے۔ اس ڈاکیومینٹری کی تیاری کیلئے محققین نے یکم جنوری 2014سے نوجوانوں کے ایک گروہ کا مشاہدہ کرنا شروع کیا۔ اس دوران ان کا سامنا دس لاکھ ٹیکسٹ پیغامات، سنیپ چیٹس، واٹس ایپ میسج اور ٹوئٹس سے ہوا۔ ساتھ ہی وہ 16برس کی انتہائی کم عمری میں نوجوانوں کو دوستی کے عروج و زوال کے حوالے سے ہونے والے تجربات کا ایک گراف بھی بناتے گئے۔ اس ڈاکیومینٹری میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح سوشل میڈیا کی بدولت نوجوانوں کو ان مسائل سے آگہی کے بہتر مواقع مل رہے ہیں جو کہ ان کے بڑوں کو حاصل نہ تھے لیکن ساتھ ہی یہ ان مسائل سے بھی پردہ اٹھاتی ہے جو کہ چوبیس گھنٹا ہفتے کے سات دن سوشل میڈیا کے ذریعے سماجی حلقے سے رابطہ میں رہنے کے باعث ان نوجوانوں کو درپیش ہیں۔ سوشل میڈیا نے ان کی ذاتی پسند نہ پسند کو بھی چھپا نہیں رہنے دیا ہے، اب اگر وہ اپنی سچ مچ کی پسند نہ پسند کے مطابق سوشل گروپس یا پیجز جوائن یا لائک کرتے ہیں تو انہیں اپنے حلقہ احباب کی جانب سے مزاق کا نشانہ بننے کا خطرہ لاحق رہتا ہے اور اگر وہ اس میڈیم کے ذریعے اپنی ایک مصنوعی تصویر پیش کرتے ہیں تو یہ ان کی شخصیت کو دو حصوں میں تقسیم کرسکتی ہے جس کے ان کی نفسیات پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا کی بدولت جذبات پر قابو رکھنا بھی نوجوان بھولتے جارہے ہیں کیونکہ کمپیوٹر سکرینز کے پیچھے چھپے ہونے کے باعث ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا سے چھپ کے اس پر وار کیا جاسکتا ہے، اور یہی غلط فہمی نوجوان نسل کو بدتمیزی کی حد تک منہ پھٹ بنا رہی ہے۔ سوشل میڈیا کی بدولت ہر لمحہ دنیا کو باخبر رکھنے کے رجحان نے درحقیقت انہیں اس خوف میں بھی مبتلا کردیا ہے کہ اگر وہ رابطے کے اس میڈیم سے خود کو علیحدہ کرلیں گے تو ایسے میں وہ اپنے حلقہ احباب سے کٹ جائیں گے۔ یہ خوف یا احساس تنہائی انہیں ہر لمحہ ان جدید ایپس سے جڑے رہنے پر مجبور کرتا ہے اور یوں وہ اس مصنوعی دنیا کا ایک مشہور کردار تو بن جاتے ہیں لیکن اپنے اطراف میں موجود اصل رشتوں سے دور ہوجاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…