منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

جمعہ کی سنتیں چھوڑ دینے کا شریعت مطہرہ میں کیا حکم ہےاور اسلا م اس بارے میں کیا کہتا ہے ؟  

datetime 28  ستمبر‬‮  2017 |

نماز جمۃالمبارک میں عام طور سے 14 رکعتیں 4 سنت، 2 فرض ، 4 سنت ، 2 سنت ، 2 نفل پڑھی جاتی ہیں ، مگر یہان اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ بہت سے لوگ صرف فرض پڑھ کر چلے جاتے ہیں گو کہ کچھ لوگ گھر جا کر باقی نماز ادا کر لیتے ہیں، مگر بہت سے لوگ سنتیں چھوڑ دیتے ہیں۔ اس طرح جمعہ کی سنتیں چھوڑ دینے کا شریعت مطہرہ میں کیا حکم ہے؟

2۔ بہت سے لوگ جمعہ کی نماز کیلئے اس وقت پہنچ پاتے ہیں ، جب خطبہ جمعہ آدھے سے زیادہ ہو چکا ہوتا ہے ، یا بالکل ختم ہو چکتا ہے، تو لوگ آتے ہی جماعت میں شامل ہو جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ایسے لوگوں کو احتیاطاً ظہر کے چار فرض بھی ادا کرنے چاہیئیں ، اس بارے میں اکثر لوگ وضاحت مانگتے ہیں کہ کن کن صورتوں میں احتیاطی ظہر ادا کرنی لازم ہے ، اور رکعتوں کی ترتیب کیا ہوگی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جمعہ والے دن نماز جمعہ سے پہلے چار، فرضوں کے بعد چار اور پھر دو، کل چھ رکعات سنتیں ہیں، پہلے والی چار ملائیں تو جمعہ کی 10 سنتیں ہیں۔ یہ تمام سنتیں موکدہ ہیں، یہ مسئلہ بھی ان مسائل میں سے ایک ہے جن میں اللہ کے فضل سے مسلمانوں میں کوئی اختلاف نہیں۔ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے، لہذا وہ نہیں چاہتا کہ کسی ایک مسئلہ میں بھی مسلمان متحد و متفوق رہیں۔ شیطانی مشن ہی یہ ہے کہ مسلمانوں میں اختلاف، افتراق اور ذہنی انتشار پھیلایا جائے اور دشمن سے اس کے سوا توقع بھی کیا ہو سکتی ہے؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…