جمعرات‬‮ ، 07 مئی‬‮‬‮ 2026 

عالمی عدالت میں کلبھوشن کا کیس اور مسئلہ کشمیر،بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج کی پریس کانفرنس، حیرت انگیز دعویٰ کردیا

datetime 5  جون‬‮  2017 |

نئی دہلی (آئی این پی) بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے رواں ہفتے آستانہ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر نواز مودی ملاقات کے امکانات کو مستردکرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں جانب سے پاک بھارت وزراء اعظم کی ملاقات طے نہیں ، پاکستان مسئلہ کشمیر کو عالمی عدالت انصاف میں نہیں لے کرجاسکتا ،کشمیر کے حوالے سے شملہ معاہدہ اور لاہور اعلامیہ بہت واضح ہیں کہ یہ مسئلہ دونوں ممالک دو طرفہ ہی حل کرسکتے ہیں،

کلبھوشن کیس کے حوالے سے بھارت کے پاس بہت مضبوط دلیل ہے ، ہم یہ مقدمہ جیت جائیں گے ،بھارت کسی بھی تیسرے ملک کی ثالثی کے بغیر تمام مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے لیکن ایک ہی وقت دہشتگردی اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں ہوسکتے۔پیر کو بھارتی اخبار’’انڈین ایکسپریس‘‘ کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ سشما سوارج نے حکومت کے تین سال مکمل ہونے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ رواں ہفتے آستانہ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پرپاک بھارت وزراء اعظم کی ملاقات دونوں جانب سے طے نہیں ہے ۔ایک سوال کے جواب میں بھارتی وزیر خارجہ نے کہاکہ پاکستان مسئلہ کشمیر کو عالمی عدالت انصاف میں نہیں لے کر جاسکتا۔کشمیر کے حوالے سے شملہ معاہدہ اور لاہور اعلامیہ بہت واضح ہیں کہ یہ مسئلہ دونوں ممالک دو طرفہ طریقے سے ہی حل کرسکتے ہیں اوردونوں ممالک ان باہمی معاہدوں کے پابند ہیں۔انھوں نے کہاکہ پاکستان کے حوالے سے بھارت کی پالیسی بہت واضح ہے بھارت کسی بھی تیسرے ملک کی ثالثی کے بغیر تمام مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے لیکن ایک ہی وقت دہشتگردی اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں ہوسکتے ۔پاکستان سے نمٹنے کیلئے بھارت کی حکمت عملی تین ستونوں پر مبنی ہے۔بھارتی وزیر خارجہ نے کہاکہ ہم نے دیگر ممالک سے کہا ہے کہ سرحد پار معاملات یا

پاکستان سے نکلنے والی دہشتگردی کو بھارت کے تناظر سے نہ دیکھا جائے بلکہ یہ دیکھا جائے کہ بین الاقومی دہشتگردی اس ملک ے ساتھ تو منسلک نہیں۔آخر کار اسامہ بن لادن کہاں پایا گیا تھا؟پاکستان میں ۔یہ اقوام متحدہ میں بین الاقومی دہشتگردی پر جامع کنونشن کو حتمی شکل دینے اور دہشتگردی کی وضاحت کا وقت ہے ۔کلبھوشن یادو کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں سشما سوراج نے کہاکہ بھارت کے پاس اس حوالے سے بہت مضبوط دلیل ہے اور ہم یہ مقدمہ جیت جائیں گئے ۔ بھارت کا کیس پاکستان کی جانب سے ویانا کنونشن کی خلاف ورزی پر مبنی تھاجس کے تحت قونصلر رسائی نہ صرف ضروری بلکہ لازمی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)


مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…