ہفتہ‬‮ ، 29 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

عالمی عدالت میں کلبھوشن کا کیس اور مسئلہ کشمیر،بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج کی پریس کانفرنس، حیرت انگیز دعویٰ کردیا

datetime 5  جون‬‮  2017 |

نئی دہلی (آئی این پی) بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے رواں ہفتے آستانہ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر نواز مودی ملاقات کے امکانات کو مستردکرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں جانب سے پاک بھارت وزراء اعظم کی ملاقات طے نہیں ، پاکستان مسئلہ کشمیر کو عالمی عدالت انصاف میں نہیں لے کرجاسکتا ،کشمیر کے حوالے سے شملہ معاہدہ اور لاہور اعلامیہ بہت واضح ہیں کہ یہ مسئلہ دونوں ممالک دو طرفہ ہی حل کرسکتے ہیں،

کلبھوشن کیس کے حوالے سے بھارت کے پاس بہت مضبوط دلیل ہے ، ہم یہ مقدمہ جیت جائیں گے ،بھارت کسی بھی تیسرے ملک کی ثالثی کے بغیر تمام مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے لیکن ایک ہی وقت دہشتگردی اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں ہوسکتے۔پیر کو بھارتی اخبار’’انڈین ایکسپریس‘‘ کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ سشما سوارج نے حکومت کے تین سال مکمل ہونے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ رواں ہفتے آستانہ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پرپاک بھارت وزراء اعظم کی ملاقات دونوں جانب سے طے نہیں ہے ۔ایک سوال کے جواب میں بھارتی وزیر خارجہ نے کہاکہ پاکستان مسئلہ کشمیر کو عالمی عدالت انصاف میں نہیں لے کر جاسکتا۔کشمیر کے حوالے سے شملہ معاہدہ اور لاہور اعلامیہ بہت واضح ہیں کہ یہ مسئلہ دونوں ممالک دو طرفہ طریقے سے ہی حل کرسکتے ہیں اوردونوں ممالک ان باہمی معاہدوں کے پابند ہیں۔انھوں نے کہاکہ پاکستان کے حوالے سے بھارت کی پالیسی بہت واضح ہے بھارت کسی بھی تیسرے ملک کی ثالثی کے بغیر تمام مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے لیکن ایک ہی وقت دہشتگردی اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں ہوسکتے ۔پاکستان سے نمٹنے کیلئے بھارت کی حکمت عملی تین ستونوں پر مبنی ہے۔بھارتی وزیر خارجہ نے کہاکہ ہم نے دیگر ممالک سے کہا ہے کہ سرحد پار معاملات یا

پاکستان سے نکلنے والی دہشتگردی کو بھارت کے تناظر سے نہ دیکھا جائے بلکہ یہ دیکھا جائے کہ بین الاقومی دہشتگردی اس ملک ے ساتھ تو منسلک نہیں۔آخر کار اسامہ بن لادن کہاں پایا گیا تھا؟پاکستان میں ۔یہ اقوام متحدہ میں بین الاقومی دہشتگردی پر جامع کنونشن کو حتمی شکل دینے اور دہشتگردی کی وضاحت کا وقت ہے ۔کلبھوشن یادو کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں سشما سوراج نے کہاکہ بھارت کے پاس اس حوالے سے بہت مضبوط دلیل ہے اور ہم یہ مقدمہ جیت جائیں گئے ۔ بھارت کا کیس پاکستان کی جانب سے ویانا کنونشن کی خلاف ورزی پر مبنی تھاجس کے تحت قونصلر رسائی نہ صرف ضروری بلکہ لازمی ہے ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)


عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…

عدیل اکبرکو کیاکرناچاہیے تھا؟

میرا موبائل اکثر ہینگ ہو جاتا ہے‘ یہ چلتے چلتے…