صنعاء(این این آئی)یمن میں ایران نواز حوثی باغیوں کی جانب سے دارالحکومت صنعاء کی مساجد میں نماز تراویح سے زبردستی روکے جانے کی خبروں کے بعد ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں حوثی شدت پسندوں کو ایک مسجد میں مقامی شہریوں کو نماز تراویح سے روکنے کے لیے ان پر تشدد کیا جا رہا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق صنعاء میں باغیوں کے زیرتسلط وزارت مذہبی امور اور اوقاف کی طرف سے صنعاء کی مساجد کے آئمہ کے نام ایک سرکلر جاری کیا گیا ہے
جس میں انہیں سختی سے تاکید کی گئی ہے کہ وہ ماہ صیام کیدوران نماز تراویح کا اہتمام نہیں کریں گے۔ ذرائع کے مطابق مساجد کے آئمہ میں تقسیم کئے گیے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ نماز تراویح پر پابندی کا حکم براہ راست حوثی لیڈر عبدالملک الحوثی کی طرف سے جاری کیا گیا ہے۔ادھر یمن کے سابق مںحرف صدر علی عبداللہ صالح کے ایک قریبی ساتھی عیسیٰ العذری نے سوشل میڈیا پر ایک فوٹیج پوسٹ کی ہے جس میں ’السبعین گراؤنڈ‘ میں علی صالح کے وفاداروں کی مساجد کے سوا دارالحکومت صنعاء کی کسی مسجد میں نماز تراویح کی اجازت نہیں۔سابق وزیر ثقافت خالد الرویشان نے سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ’فیس بک‘ پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں کہا کہ صنعاء کی مساجد نمازیوں سے خالی ہیں۔ حوثیوں کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں کہ مساجد میں کوئی آئے یا نہ آئے۔ ان کے نزدیک نمازیوں کو تراویح کی ادائیگی سے روکنا ہے۔صنعاء کے علاوہ کئی دوسرے شہروں میں بھی حوثی شدت پسندوں کی جانب سے نماز تراویح کی ادائی سے روکے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ حال ہی میں الریمہ گورنری کی جامع مسجد امام ابراہیم الزبیر کو حراست میں لیا گیا۔ عمران گورنری میں نمازیوں کو نماز تراویح سے روکنے کے لیے ان پر تشدد کیا گیا جب کہ کئی مساجد کے لاؤڈ اسپکر بند کردیے گئے۔
نماز اور مساجد کے دشمن حوثی باغیوں نے گذشتہ چار سال کے دوران دسیوں مساجد کو بند کیا ہے۔ سنہ 2013ء سے 2016ء کے درمیان صنعاء میں 282 مساجد تھیں جب کہ صعدہ گورنری میں مساجد کی تعداد 1155 بتائی جاتی ہے۔



















































