جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

جے آئی ٹی میں حسین نواز کے ساتھ وہ ہوگیا جو شائد پہلے کبھی نہ ہوا ہو،تفصیلات سامنے آگئیں،حسین نواز نے ارکان کو انتباہ کردیا

datetime 30  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) پانامہ کیس کی تحقیقات کے لئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے واجد ضیاء کی سربراہی میں قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے وزیر اعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز سے 4 گھنٹے تک پوچھ گچھ کی جبکہ د و گھنٹے انتظار کروایا ، جے آئی ٹی نے حدیبیہ پیپر ملزکیس میں نیشنل بینک آف پاکستان کے صدر سعید احمد کا بیان بھی قلمبند کر لیا ہے

حسین نواز سے ان کی کمپنیوں نیلسن اور نیسکول ، لندن فلیٹس سمیت بیرون ملک سرمایہ کاری سے متعلق تفصیلی سوالات کیے گئے ، حسین نواز اپنے وکیل کے ہمراہ جے آئی ٹی کے سامنے سوالوں کے جواب دیتے رہے ۔ دوسری طرف حسین نواز نے نے کہاہے کہ اگر جے آئی ٹی نے دوبارہ طلب کیا تووہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں گے ۔ کوئی بھی چیز میرے والد اور بہن بھائیوں پر ثابت نہیں ہوسکے گی ، میں نے جے آئی ٹی ارکان کے ہر قسم کے سوالات کے جوابات دیے ہیں ، تمام سوالات قانونی عمل کے ذریعے کیے جا رہے ہیں،جے آئی ٹی کے کسی بھی رکن کا رویہ ٹھیک نہ ہوا تو عدالت جاؤں گا ۔منگل کو وفاقی جوڈیشل اکیڈیمی میں ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف اآی اے واجد ضیاء کی سربراہی میں جے آئی ٹی کا اجلاس ہوا جس میں پونے گیارہ بجے پیشی کے لئے نیشنل بینک آف پاکستان کے صدر سعید احمد آئے جس کے بعد حسین نواز اپنی لیگل ٹیم کے ہمراہ جے آئی ٹی میں پیشی کے لئے سخت سیکیورٹی میں وفاقی جوڈیشل اکیڈمی پہنچے جہاں انہیں دو گھنٹے کے انتظار کے بعد بیان قلمبند کرنے کے لئے جے آئی ٹی کے سامنے بلایا گیا ۔ جے آئی ٹی نے پہلے دو گھنٹے تک سعید احمد کا بیان ریکارڈ کیا جس کے بعد وزیر اعظم کے صاحبزادے حسین نواز سے تفصیلی پوچھ گچھ کی گئی ۔ حسین نواز کی درخواست پر انہیں وکیل کی معاونت بھی حاصل رہی ۔

ذرائع کے مطابق حسین نواز سے لندن فلیٹس ، ان کی کمپنیوں اور بیرون ملک سرمایہ کاری سے متعلق تمام ارکان نے تفصیلی سوالات کیے ۔ اس دوران نیشنل بینک آف پاکستان کے صدر سعید احمد کو بھی جے آئی ٹی نے تفصیلی پوچھ گچھ کے لئے بلا رکھا تھا ۔ سعید احمد سے جے آئی ٹی کے ارکان نے تقریباً دو گھنٹے تک پوچھ گچھ کی ان سے حدیبیہ پیپرملز کیس کے ریکارڈ کی روشنی میں سوالات کیے گئے ۔

جے آئی ٹی میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم کے صاحبزادے حسین نواز نے کہا ہے کہ لوگوں کے دلوں سے شکوک وشبہات ختم کرنے کیلئے ہم روزانہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو رہے ہیں ، جے آئی ٹی نے دوبارہ طلب کیا تو پیش ہوں گا ، الزامات جھوٹ ہیں ، جے آئی ٹی میں ثابت نہیں ہوں گے ، حسین نواز نے کہا کہ ہم نے جے آئی ٹی کو تمام بیان ریکارڈ کروادیے ہیں ۔

جے آئی ٹی کی جانب سے جو بھی سوال کئے گئے ہم نے ان تمام سوالوں کے جواب دیے ہیں اور جے آئی ٹی کو تمام ریکارڈ بھی فراہم کردیا ہے ، اگر جے آئی ٹی نے دوبارہ بھی طلب کیا تو میں جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی چیز میرے والد اور بہن بھائیوں پر ثابت نہیں ہوسکے گی ، میں نے ان کے ہر قسم کے سوالات کے جوابات دیے ہیں ، تمام سوالات قانونی عمل کے ذریعے کیے جا رہے ہیں ،

تمام کاغذات قانونی حقوق کے مطابق دیے جائیں گے ، ۔ حسین نواز نے کہا کہ ہم قانون کا احترام کرتے ہیں ، جے آئی ٹی کے کسی بھی رکن کا رویہ ٹھیک نہ ہوا تو عدالت جاؤں گا ، ہم تمام سوالات کے جوابات دے رہے ہیں تا کہ سب کو معلوم ہو کہ ہم قانون کا احترام کرتے ہیں ۔ میں روزے سے ہوں اور دو گھنٹے تک مجھیانتظار کرایاگیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…