منگل‬‮ ، 02 جون‬‮ 2026 

مائونٹ ایورسٹ کو سر کرنے والے پاک فوج کے سابق افسر کے دوست نے کس طرح زندگی کی سب سے بڑی خواہش چھوڑ کر اپنے ساتھی کی جان بچائی؟

datetime 26  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) کوہ پیما سعد محمد نے حال ہی میں ماؤنٹ ایورسٹ سَر کرنے والے ریٹائرڈ کرنل عبدالجبار بھٹی کی جان بچانے کے لیے دنیا کی بلند ترین چوٹی کو سَر کرنے کا اپنا سفر ادھورا چھوڑ دیا۔خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے کوہ پیما اور سابق لیفٹننٹ کرنل عبدالجبار بھٹی نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والے چوتھے پاکستانی ہونے کا اعزاز اپنے نام کیا تھا۔تاہم ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی سے واپسی کے سفر میں سابق فوجی اور ان کے گائیڈ کے پاس آکسیجن ختم ہوگئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق 8 ہزار 500 میٹر کی اونچائی پر پھنس جانے والے کرنل بھٹی کی زندگی بچانے کے لیے سعد محمد کو اپنی خواہش کو ترک کرکے اپنے پاس موجود وسائل اور توانائی کو کرنل بھٹی کی حفاظت کے لیے صرف کرنا پڑا۔واضح رہے کہ کرنل بھٹی ایک ایسے مقام پر پھنس گئے تھے جو درجنوں کوہ پیماؤں کی جان لے چکا ہے۔خیال رہے کہ یہ دونوں کوہ پیما 2012 میں اسپانٹک کی چوٹی کو سر کرنے والے ایک گروپ کا حصہ بھی رہ چکے ہیں، اس مہم کے سربراہ کرنل (ر) بھٹی تھے اور سعد محمد کے مطابق ان کی رہنمائی نے انہیں بہت حوصلہ دیا تھا۔22 مئی کو سیٹلائٹ فون کے ذریعے سوشل میڈیا پر سعد محمد نے لکھا کہ ’کرنل بھٹی اور ان کے گائیڈ کو ریسکیو کیا جاچکا ہے اور وہ اب خطرے سے باہر ہیں‘۔کرنل بھٹی اور ان کے ساتھی کو 8 ہزار 700 میٹر کی بلندی پر واقع کیمپ 4 میں سلیپنگ بیگز میں رکھا گیا تھا۔بعد ازاں کرنل بھٹی اور ان کے گائیڈ کو کیمپ 2 سے ایئرلفٹ کرکے کٹھمنڈو لے جایا گیا۔واضح رہے کہ رواں سال ماؤنٹ ایورسٹ کا سفر کرنے والے 14 افراد جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں، بدھ (24 مئی) کے روز بھی 4 کوہ پیما مردہ حالت میں پائے گئے ہیں، جبکہ ایک بھارتی شہری پہاڑ کی چوٹی سر کرنے کے بعد پہاڑ سے اترتے ہوئے ہلاک ہوگیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…