جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

مائونٹ ایورسٹ کو سر کرنے والے پاک فوج کے سابق افسر کے دوست نے کس طرح زندگی کی سب سے بڑی خواہش چھوڑ کر اپنے ساتھی کی جان بچائی؟

datetime 26  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) کوہ پیما سعد محمد نے حال ہی میں ماؤنٹ ایورسٹ سَر کرنے والے ریٹائرڈ کرنل عبدالجبار بھٹی کی جان بچانے کے لیے دنیا کی بلند ترین چوٹی کو سَر کرنے کا اپنا سفر ادھورا چھوڑ دیا۔خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے کوہ پیما اور سابق لیفٹننٹ کرنل عبدالجبار بھٹی نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والے چوتھے پاکستانی ہونے کا اعزاز اپنے نام کیا تھا۔تاہم ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی سے واپسی کے سفر میں سابق فوجی اور ان کے گائیڈ کے پاس آکسیجن ختم ہوگئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق 8 ہزار 500 میٹر کی اونچائی پر پھنس جانے والے کرنل بھٹی کی زندگی بچانے کے لیے سعد محمد کو اپنی خواہش کو ترک کرکے اپنے پاس موجود وسائل اور توانائی کو کرنل بھٹی کی حفاظت کے لیے صرف کرنا پڑا۔واضح رہے کہ کرنل بھٹی ایک ایسے مقام پر پھنس گئے تھے جو درجنوں کوہ پیماؤں کی جان لے چکا ہے۔خیال رہے کہ یہ دونوں کوہ پیما 2012 میں اسپانٹک کی چوٹی کو سر کرنے والے ایک گروپ کا حصہ بھی رہ چکے ہیں، اس مہم کے سربراہ کرنل (ر) بھٹی تھے اور سعد محمد کے مطابق ان کی رہنمائی نے انہیں بہت حوصلہ دیا تھا۔22 مئی کو سیٹلائٹ فون کے ذریعے سوشل میڈیا پر سعد محمد نے لکھا کہ ’کرنل بھٹی اور ان کے گائیڈ کو ریسکیو کیا جاچکا ہے اور وہ اب خطرے سے باہر ہیں‘۔کرنل بھٹی اور ان کے ساتھی کو 8 ہزار 700 میٹر کی بلندی پر واقع کیمپ 4 میں سلیپنگ بیگز میں رکھا گیا تھا۔بعد ازاں کرنل بھٹی اور ان کے گائیڈ کو کیمپ 2 سے ایئرلفٹ کرکے کٹھمنڈو لے جایا گیا۔واضح رہے کہ رواں سال ماؤنٹ ایورسٹ کا سفر کرنے والے 14 افراد جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں، بدھ (24 مئی) کے روز بھی 4 کوہ پیما مردہ حالت میں پائے گئے ہیں، جبکہ ایک بھارتی شہری پہاڑ کی چوٹی سر کرنے کے بعد پہاڑ سے اترتے ہوئے ہلاک ہوگیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…